Thursday, April 17, 2008

آٹا،بجلی، مہنگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریرچودھری احسن پریمی




ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں نے جو دو ٹوک اعلان اور کمٹمنٹ دی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ غیر آئینی صدر کے جلد مواخذہ کا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے جبکہ یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن نے پاکستان میں 18 فروری2008 کے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ میں ان انتخابات کو مسابقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے تمام امیدواروں کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے، سرکاری میڈیاجانبدار رہااور سابق حکمران جماعت اور نگران انتظامیہ کو کوریج دی گئی، سابق حکمران جماعت ق لیگ نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا تاہم انتخابی نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی قبولیت حاصل رہی۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور چیف انتخابی مبصر مائیکل گیلر نے بدھ کو یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کی حتمی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فروری 2008ء کے انتخابات مسابقتی تھے اور عوام و سیاسی جماعتوں نے نتائج کو قبول کیاتاہم پاکستان میں انتخابات کے ڈھانچے اور صورتحال میں مستقل مسائل موجود ہیں، اگر انہیں حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتخابی مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔ پاکستانی حکام، سیاسی جماعتوں اور شہری معاشرے پر زور دیا کہ وہ سرعت سے انتخابی اصلاحات سرانجام دیں اور وہ ایک سال بعد دوبارہ پاکستان آکر حالات میں پیش رفت کا مشاہدہ اور اپنی رپورٹ یورپی پارلیمنٹ کو پیش کرینگے۔ مائیکل گیلر نے مزید کہاکہ انتخابات میں زیادہ اہم کردار ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے ادا کیا اور اس عمل کی گہری جانچ پڑتال کی تاہم مجموعی ڈھانچے اور حالات کے تحت منعقدہ انتخابات میں سنگین مسائل درپیش رہے اور انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں سابق حکمران جماعتوں کے حق میں تعصب کے باعث یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور کارکردگی پر اعتماد میں کمی نظر آئی، انتخابی مہم مدھم اور سست روی کا شکار رہی اور انتخابات سلامتی کے مخدوش حالات میں ہوئے جبکہ انتخابی اجتماعات پر حملوں کے دوران 100 سے زائد سیاسی کارکنان ہلاک ہوئے، جن میں ایسے ہی ایک المناک واقعہ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شکایات اور اپیلوں کے طریقہ کار پر اعتماد کی کمی ہے ۔مائیکل گیلر نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان میں انتخابی عمل میں اصلاحات کیلئے ہرممکن مدد دینے کو تیارہے کیونکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتخابات کے ڈھانچے اور حالات میں اصلاح کیلئے 82 سفارشات دی گئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار عدلیہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں جس پر متعلقہ افراد کو اعتماد ہو تاکہ انتخابی عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے،انتخابی قانون سازی کا مشاورتی اندازسے جائزہ لیاجائے، مخصوص حل طلب معاملات میں انتخابی انتظامیہ کی خود مختاری اور شفافیت، شکایات اور اپیلوں کے ضوابط اور امیدوار کی شرائط پر حد سے زیادہ پابندیاں شامل ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر متعلقہ افراد کی مشاورت سے مشروط ہو اور اس میں ان کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے جبکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہئے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ خودمختار تقرری کے حامل ججوں کو عدالتوں اور ٹربیونلز کے پاس آنیوالی انتخابی اپیلوں کو بروقت نمٹانا چاہئے، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حلقے اور انٹرنیٹ پر فوری آویزاں کئے جائیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک درست اور مکمل انتخابی فہرست تیار کرنی چاہئے۔ یورپی یونین انتخابی مبصر مشن نے انتخابی مشاہدہ کاری کے عرصے کے دوران پاکستانی عوام کے تعاون، اعانت اور پذیرائی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی نئی حکومت کو ورثے میں ملی ہے جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اب 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان بحال ہوں گے ۔ ججوں کی بحالی میں اب کوئی ابہام نہیں رہ گیا اب افتخار چوہدری کو بحال اور پرویز مشرف کو جانا ہو گا ۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں انہی بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے لیاقت علی خان ‘ ضیائ الحق کو قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھا نسی پر چڑھایا تھا اس بات کا اغلب امکان ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کی بحالی سے بھی قبل صدر کو مواخذے کے ذریعے ہٹا دے ۔ پارلیمنٹ حالات کو اس طرف لے جا رہی ہے جس کا تقاضا عوام کر رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے جانے کا اب وقت آ گیا ہے انہیں اب بہرحال جانا ہو گا ۔ اگر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر پاکستان اور عوام کی خواہش کو بحال ہونا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری بحال اور صدر مشرف مستعفی ہوں ۔ سیاست کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت عوام کی مجموعی سوچ یہی ہے کہ صدر مشرف اب جائیں اب مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ امریکہ کا کہنا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ۔ یہ غلط ہے ہمارا کنٹرول کا نظام بڑا موثر ہے ۔ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر مشرف کو اب جانا پڑے گا صدر کی رخصتی اب حتمی ہو گئی ہے ۔ خواہ یہ خونریزی کے ذریعے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ہو بہرحال اب ان کے لئے جانا ضروری ٹھہر گیا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی صدر مشرف کے لئے اب کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتظامیہ ذلیل ہوئی ہے اور اتنے لوگ مارے گئے ہیں اس لئے اب صدر کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔ نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا جس سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ صدر مشرف کی وجہ سے ہو رہا تھا اب لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اب نہیں رہیں گے ۔ قوم امن پسند ہے ایف بی آئی کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ سی آئی اے وغیرہ سب دندناتے پھر رہے ہیں ان کو کھلی چھٹی پرویز مشرف نے دے رکھی ہے دشمن ہمارے اندر گھس آئے ہیں وہ ہمارے اداروں کے اندر موجود ہیں اور پاکستان میں تشدد آمیز جو واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے انہی کی سوچ استعمال ہو رہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے لیاقت علی خان قتل کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ۔ ضیاء الحق کو قتل کیا یہ عالمی استعمار ہیں جن کے سربراہ امریکہ ہیں یہ پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بے نظیر بھٹو ان سے باغی ہو گئیں تھیں نیگرو پانٹے جب بے نظیر سے ملنے پاکستان آئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت فیصلہ ہو گیا تھا ۔ انہوں نے یہاں بے تحاشا وسائل جمع کر رکھے ہیں ان سب باتوں کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ بے نظیر کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا ایک نہیں بلکہ کئی مہرے موجود ہیں ۔ امریکہ کو امت مسلمہ کے خلاف ہر سازش میں ناکامی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو اسے سورج کے نیچے کہیں بھی سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک کے بعد دوسری حماقت کی ہے اسے مشرق وسطی ، افغانستان ، لبنان ، فلسطین ہر جگہ پر ناکامی کا سامنا ہے جبکہ وہ عراق میں بھی اذیت ناک شکست سے دوچار ہے اور مزید دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی مدد سے حملہ کیا، اسلحہ فراہم کیا، روپیہ پیسہ بھی دیا لیکن لبنان کے عوام نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعے اس کی جارحیت کو ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران جو ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے کوشاں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گا ۔ اب امریکہ کو عقل کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور ان سازشوں سے باز آجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو ہر صورت ختم ہونا ہے ۔ ہم امریکی عوام کے خلاف نہیں ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی چاہتے ہیں ۔ لیکن امریکہ کو مسلم دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں وہ اپنی ہر اس سازش میں ناکام رہا اس نے شاہ ایران کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی شناخت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی حیثیت سے ہمیں دنیا بھر میں متحد ہونا ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف ہیں لیکن ان تمام مذاہب کو جو ان میں 90 فیصد مشرکات موجود ہیںاس پر عمل پیرا ضررو ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی امت مسلمہ کے اتحاد اور اسے قرآن کے پیغام کے تحت متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ،ایران کے نوجوانوں نے ان کی کتب سے دین اسلام کے حوالے سے بہت رہنمائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وجہ ہے کہ آج دنیا اسلام ممالک میں 207 بینک بغیر سودی بینکاری کر رہے ہیں جن میں 400 ارب ڈالر گردش میں ہیں ۔ ہمارا اصل ہدف اللہ کے پیغام کی سربلندی ہے ۔


Wednesday, March 26, 2008

جینا مر نا اے وطن تیرے لئے نئے وزیر اعظم کا عزم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر چودھری ا حسن پریمی




صدر پرویز مشرف اور نئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مل جل کر ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ جبکہ صدر نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے ۔ تین سٹیج ٹرانزیشن آخری مرحلے میں ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہو چکے ہیں اور یہ انتخابات آزادانہ منصفانہ اور شفاف انداز میں پر امن طریقے سے ہوئے جو ایک قابل فخر امر ہے ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے انتخاب کے بعد اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے ۔ جبکہ یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اور نگراں حکومت ختم ہو گئی ہے اب جینا مرنا پاکستان کیلئے ہی ہوگا،آئین کے مطابق چلیں گے تو کوئی تصادم نہیں ہو گا یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قو م کے مشکور ہیں جس نے خوش اسلوبی کے ساتھ انتخابات میں اپنا مینڈیٹ دیا، اس سے ان کی امنگوں کا عکس نظر آتا ہے کہ کس طرح کے لوگوں کو یا کس قسم کے منشور کو وہ آگے لانا چاہتے تھےعوام نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ وہ ملک و قوم کے لیے بہترین کام کریں گے آئندہ دور بہت مشکل ہو گا کیونکہ دہشت گردی انتہا پسندی اور معاشی مسائل درپیش ہیں انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اپنے ملک اور اپنی قوم پر فخر ہے اور ہم پاکستان کے لیے ہی جئیں اور مریں گے۔ یوسف رضا گیلانی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پہلے100 دن کی گنتی شروع ہو جائے گی اور ہاو¿س کے فلور پر وہ آئندہ سو دن کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ جس میں معیشت اور بحرانوں کے حوالے سے معاملات شامل ہوں گے ۔ موجودہ صورتحال میں چیلنجز سے نمٹنا ایک پارٹی کا کام نہیں ہے اس لیے تمام فورسز کو یکجا ہو کر ملک کو ان بحرانوں سے نکالنا ہو گا ۔ پارلیمنٹ کو با اختیار اور سپریم بنانا ہے اور اداروں کو مضبوط بنانا ہے سید یوسف رضا گیلانی کے اعتما د کے ووٹ کے بعد ان کے سو دن کی حکمت عملی شروع ہو جائے گی لہکن اس سے پہلے وکلاءکے تیس دن پورے ہو جائیں گے کیا اگر نئی حکومت ججز محال کرانے میں ناکا م ہو جا تی ہے تو کیا وہ ان بحرانوں پر قا بو پا لے گی جس کا اس نے عزم کیا ہے ؟ 100 دن کی سوچ بچار سے بہتر ہے ایک ہفتے میں ایسے فیصلے کئے جا ئیں اور ان فیصلوں کی مدد سے ان وجوہات کا سرے سے ہی خاتمہ کر دیا جا ئے جو بحران پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ فوری طور پر ججز کو بحال کیا جائے نیز 1973ءکے آئین کو اپنی اصل حالت میں لا یا جائے اور ایسے تمام آرڈیننس اور قوانین کو ایک قرار داد کے ذریعے ختم کیا جا ئے جو فو جی آمروں نے ا پنے اقتدار کو طول اور تحفظ دینے کے لئے جعلی مجلس شوری اور اور جعلی ووٹوں سے معرض وجود میں آنے والی پالیمنٹ سے حما یت لے کر بنائے۔ از سر نو قانون سازی کی جا ئے ۔ اور 58/2B کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا ئے اور ایسے تما م راستے بند کئے جا ئیں جو آمریت کی طرف جاتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ قیام پاکستان سے قبل گورنمنٹ آف انڈیا کے ایکٹ کا حصہ جو بر طانوی حکومت نے بنا یا تھا کہ اگر غلام ملک ہندوستان کے لوگ بغاوت کریں تو بغاوت کی صورت میں متعلقہ صوبے یا علاقے پر برٹش آرمی Take Over کرسکتی ہے اور اس ایکٹ کو بد قسمتی سے آ زادی کے بعد بھی لاگو کر دیا گیا اور فوجی گروپوں کو اقتدار چھیننے کا مو قع ملتا رہا ۔ اور اس ایکٹ کو بھی ایک سازش کے تحت شامل کیا گیا تا کہ بر طانیہ اور امریکہ اپنے نا پاک عزائم کو پو را کرنے کہلئے اس ملک اور عوام کو کنٹرول کر سکیں اور اس طرح کی ملتی جلتی کئی اور بھی بیماریاں ہیں جن پر نظرثانی بہت ضروری ہے۔ 1973ء کے آئین سے آمریت کی تمام نشانیاں ختم کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ دہشت گردی کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے قومی امنگوں کے مطابق پالیسیاں وضح کی جائیں عدلیہ کی بحالی کے لئے پارلیمنٹ سے قرارداد کی منظوری فوری طور پر کی جائے سید یوسف رضا گیلانی سے توقع ہے کہ وہ پاکستان اور اس کی عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور وزیر اعظم کے منصب کا مورال بحال کرنے میں کامیاب ہو نگے ۔ پانچ سالوں میں اس منصب کی توقیر کو خاک میں ملا دیا گیا ہے ۔ اصل مبارکباد کی مستحق سولہ کروڑ عوام ہے ۔ 18فروری کو عوام نے واضح اور دو ٹوک مینڈیٹ دے کر آمریت پر کالی ضرب لگائی ہے ۔عوام کی جدوجہد کا مرحلہ مکمل ہوا ہے تاہم کئی مراحل ابھی باقی ہیں ۔ پہاڑ کی طرح نئی حکومت کے سامنے کئی مسائل ہیں ۔ پورے ملک کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے ۔ وہ پاکستان جو 12 اکتوبر 1999ء کے وقت موجود تھا اب نہیں ہے ا ملک کی آزاد ی اور خود مختاری کو خاک میں ملا دیا گیاہے ۔ ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں کہا جارہا ہے کہ جمہوریت بحال کی گئی ہے نئی حکومت کو اقتدار نہیں مسائل منتقل ہوئے ہیں ۔ملک میں بد امنی ، لاقانونیت ، قتل وغارت گری ،بم دھماکے ، خود کش حملے ، بے روز گاری ،مہنگائی سمیت بجلی ،آٹے ،گیس کا بحران ہے ۔قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے ۔ 42ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ،28 کھرب روپے کے اندرونی قرضے ہیں ۔ اقتصادی بد حالی ہے ۔بگڑا ہوا آئین ،ٹوٹی ہوئی عدلیہ تباہ حال ادارے نئی حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں ۔ عوام کی مدد اور تعاون سے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا نا گزیر ہے ۔ ججز کی رہائی پر پوری قوم نے جشن منایا عوام کو خوشی ہوئی مگر ساتھ ندامت بھی کیونکہ ایک آمر نے ملک کو اس مقام پر پہنچایا ہے دنیا کیا سوچے گی ۔ ججز کو زیر حراست رکھنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے ۔ انصاف فراہم کرنے والے قید کر دیے گئے ۔ شرمناک ڈرامہ کھیلا گیا ۔ اس ڈرامہ میں ملوث تمام کرداروں کا محاسبہ ناگزیر ہے ۔ اب عوم اس انتظار میں ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب اعلان مری کے مطابق تمام ججز اپنے عہدوں پر کام شروع کردیں گے ۔ آزاد عدلیہ ہی کے نتیجے میں ملک جمہوریت کا قلعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ مثیاق جمہوریت کی ایک ایک شق پر عمل ضروری ہے ۔ 1973ء کے آئین سے آمریت کے تمام نشانیاں ختم کر دی جائیں ۔اصوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بلانے میں تاخیر نہ کی جائے ۔ عوامی مینڈیٹ میں روڑھے نہ اٹکائے جائیں امریکی اعہدیداروں کا بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد ہونے والے تمام فیصلے فرد واحد کی جانب سے کیے گئے ۔تمام پالیسیاں عوامی امنگوں اور جذبات کے مطابق بنائی جائیں گی اور عوام کے تعاون سے ان پر عملدر آمد کیا جائے گا ۔ نئی پارلیمنٹ وجود میں آچکی ہے ۔ سارے معاملات اور پالیسیاں پارلیمنٹ میں زیر بحث لائی جائیں ۔ عوام کے نمائندے دہشت گردی کے حوالے سے پالیسیوں کا ہر پہلو سے جائزے لیں ۔ ور اس مقصد کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جا ئے جس میں تمام کی نمائندگی ہو۔ عالمی نقطہ نظر کو بھی سامنے رکھ کر دہشت گردی کے خلاف قومی اور ملکی مفادات کے تحت سفارشات مرتب کی جائیں اور پارلیمنٹ میں لائیں ۔ اور امریکہ پر زور دیا جائے کہ جس طرح امریکہ اپنے ملک کو دہشت گردی سے صاف اور پاک کرنا چاہتا ہے ۔ نئی حکومت کی خواہش بھی ہو کہ ہماری بستیوں پر میزائل اور بم نہ برسائے جائیں ۔معصوم لوگوں سے ان کی زندگیاں نہ چھینی جائیں ہماری گلیو ں اور سڑکوں پر خون کی ندیاں نہ بہائیں جائیں ۔ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں ۔ ملک کا کوئی حصہ دفتر سڑکیں پولیس کوئی بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں ۔سیاست دان ،بے نظیر بھٹو ، سرکاری اہلکار ، عام لوگ قتل ہو رہے ہیں یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔ پا کستان امریکہ یورپ بلکہ دنیا کے ہر حصے میں امن چا ہتا ہے۔18فروری 2008ءکو عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ کس ہاتھوں میں ملک کی بھاگ دوڑ دینا چاہتے ہیں ۔ عوامی امنگوں کے مطابق حکومت سازی ہونی چاہیے اور قومی پالیسیاں بنائیں جائیں ۔ پرویز مشرف کو عوام مزید برداشت نہیں کر سکتی پارلیمنٹ ،انتظامیہ پولیس 16کروڑ عوام ایوان صدر کے ساتھ نہیں ہیں امریکہ بھی حالات کو سمجھے ۔ پاکستان میں اب مزید ون مین شو نہیں چلنا چاہیئے۔ عوام کے موڈ کو سمجھ لیا جائے ۔پارلیمنٹ آزاد اور خو د مختار ادارہ ہے ۔ فرد واحد کی جانب سے ججز کی بحالی کے لئے دو تہائی اکثریت کی بات کرنا فراڈ ہے ۔