skip to main |
skip to sidebar

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز تیس اپریل تک ججوں کو بحال کرنے کے پابند ہیں تیس اپریل تک تمام معزول ججوں کی بحالی کا وعدہ ہر صورت پورا کیاجائے ۔حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں نے اس سلسلے میں اعلان مری پر دستخط کئے ہوئے ہیں اور آصف علی زرداری اور نواز شریف دونوں اس پر عمل کریں ۔ججوں کی بحالی کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے ججوں کو فرد واحد پی سی او کے تحت اتار کر گھرو ںمیں نظر بند کر دیتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے اور پھر ان ججو ںکو بحا ل کرنے کیلئے اتنا بڑا پہاڑ عبور کرنا پڑے گا غیر قانونی اقدام کو قانونی بنانے کیلئے اتنی مشکلات اٹھانا کہاں کا قانون ہے ایسا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قوم نے آمریت کے خاتمے اور عدلیہ کی بحالی کا مینڈیٹ دیا ہے اور وہ اس سے انحراف ناممکن ہے۔ 18فروری کو قوم کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ پر قائم رہنا ہوگا۔عوام اس میں کوئی ہیرا پھیری نہیں کرنے دیں گے ۔ ججوں کی بحالی کی قرارداد اور آئینی پیکج دو الگ الگ معاملات ہیں ۔ یہ قرار داد ایسے ہی جائے گی جج بحال ہوں گے اور اس کے بعد چارٹر آف ڈیمو کریٹک پر مبنی ترامیم آئیں گی ۔ نئی حکومت کے کرتا دھرتا چارٹر آف ڈیمو کریٹک پر عمل کرنے کے پابند ہیں ۔ جبکہ نواز شریف یہ بھی چاہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہونی چاہیے اور یہ موزوں وقت ہے ۔ اگرحکومت نے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ عوام اس تاخیر کو اچھی نظرسے نہیں دیکھتے ۔ میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ حکمران اتحاد برقرار رہے جب تک ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی نہ ملک کے مسائل حل ہو نگے نہ ہی امن قائم ہوگا آج دنیا بھر میں قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی بات ہورہی ہے اگر ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی تو سر مایہ کار بھی بلا خوف و خطر پاکستان میں سر مایہ کاری کرینگے کوئی بھی معاشرہ کفر کی حالت میں قائم تو رہ سکتا ہے لیکن ظلم کی صورت میں قائم نہیں رہ سکتا ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے وکلاء کی جدو جہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے عوام نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ یہ وکلاء کی جد و جہد ضرور کامیاب ہوگی اور قوم آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا خواب جلد شر مندہ تعبیر ہوگا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججزکی دوبارہ بحا لی ناگزیر ہے عدلیہ بحال ہو اور عدلیہ کو آزاد عدلیہ بنایا جائے ۔ اگر نئی حکومت بھی عوام کے مسائل حل نہ کر سکی تو اس کا بھی اقتدار میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جمہوری قوتوں کی کامیابی سے ہی ملک میں جمہوریت کو فروغ ملے گا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) نے کہا ہے کہ صدر نے ججز کو برطرف کرکے غلط کیا تھا اگر موجودہ حکومت عدلیہ کا بحران حل نہ کر سکی تو ہم قوم کو اس بحران سے نجات دلانے کیلئے قرارداد لائینگے ۔ ججز کی بحالی آئینی اور قانونی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بن چکا ہے ‘ نواز شریف بھی اسی پر سیاست چمکا رہے ہیں وہ حکومت سے الگ نہیں ہونگے ۔ ملک میں نہ پہلے جمہوریت تھی نہ اب ہے جب تک حقیقی جمہوریت نہیں آتی 58ٹو بی کا اختیار صدر کے پاس رہنا چاہیے ۔اس کے خاتمے کی قرارداد آئی تو اس بارے میں سوچیں گے۔ حکومت نے ابھی تک ججز کی بحالی ‘ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو صدر بنانے ‘دس سالہ قیمتیں واپس لانے سمیت کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ‘اب حکومت قو م سے معذرت کرے، جتنی مہنگائی ایک ماہ میں ہوئی ہے اتنی سابقہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں بھی نہیں ہوئی اس ایک ماہ کے دوران پانچ ارب روپے کا منافع کس نے کمایاجلد قوم کو آگاہ کیا جائیگا ۔ اگر بلوچستان کے مسئلے پر ہمارے دور میں بنائی گئی کمیٹی کی 37سفارشات پر مکمل عملدرآمد کر لیا جاتا تو شاید اکبر بگٹی کی ہلاکت نہ ہوتی ۔ چیف جسٹس اور دیگر ججز کو جس طرح نکالا گیا اور اب جس طرح حکومت نے سیکرٹری خارجہ امور ریاض احمد خان کو نکالا ہے دونوں طریقے غلط ہیں ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے کہا تھا کہ ہم ایک ماہ میں ججز کو بحال کر دیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا جسکی وجہ سے قوم پریشان ہے اور ہم اسے مزید پریشان نہیں دیکھنا چاہتے ‘ اگر حکمرانوں نے ججز بحال نہ کئے تو ہم قرارداد لا کر قوم کو اس بحران سے نجات دلائینگے اور اسکا طریق کار جلد طے کر لینگے ۔ ا ہماری خواہش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور اگر نواز شریف نے حکمران اتحاد کو چھوڑ دیا تو حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا گورنر اسٹیٹ بینک نے معیشت کے متعلق جو بیان دیا ہے وہ حکومتی دباو¿ کا حصہ ہے ‘صورتحال اسکے برعکس ہے ‘ پاکستان کی معیشت مضبوط ہے ۔ جن ممالک میں مکمل جمہوریت ہوتی ہے وہاں پر 58ٹو بی کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن پاکستان میں مکمل جمہوریت نہیں اس لئے یہ اختیار صدر کے پاس رہنا چاہیے ہم اسکے حق میں ہیں ۔ جبکہ مشاہد حسین نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد نے وعدے کئے تھے کہ ڈاکٹر عبد القدیر کو صدر بنائینگے ‘ قیمتیں کم کریں گے اور ججز کو بحال کیا جائے گا لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا اور اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو قوم سے معذرت کر لے اور بتائے کہ انہیں حکومت میں آ کر پتہ چلا ہے کہ یہ سب کچھ ممکن نہیں ۔ سیکرٹری خارجہ ریاض احمد کو صرف اس وجہ سے نکالا گیا ہے کیونکہ انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کی تھی کیونکہ یہ تحقیقات پاکستان کے مفاد میں نہیں اور اس سے بیرونی مداخلت کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا جو خطرناک ہو سکتا ہے ۔ ہم نے قومی اسمبلی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کی حمایت اس لئے کی تھی کیونکہ بینظیر بھٹو کے قتل میں اپوزیشن لیڈر کا نام لیا جارہا تھا اوراسی وجہ سے ہم نے اسکی حمایت کی ۔ پاکستان ڈیفالٹر ہونے کی طرف نہیں جارہا اور ہمیں امید ہے کہ وزیر خزانہ قوم کو اصل حقائق بتائینگے لیکن اب معیشت کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہے ن لیگ والے پرویز مشرف کے ساتھ کھانے بھی کھاتے ہیں ‘ موسیقی بھی سنتے ہیں اور جب اتنا کچھ کرتے ہیں تو انہیں بیرونی ممالک کے دوروں پر بھی جانا چاہیے ملکی مسائل کا حل ڈنڈا یا آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات ہیں اور ہماری حکومت نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے سفارشات بھی تیار کی تھیں لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا‘ اب موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی کمیٹی کی سفارشات کیساتھ ہماری سفارشات پر بھی عمل کرے کیونکہ یہ ملک میں مفا د ہوگا ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ ججز کی بحالی کو آئینی و قانونی نہیں سمجھتے ہم ججز کی بحالی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ اس بحران کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہئے اور اگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا تو اس بحران کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔مشاہد حسین نے کہا کہ (ن) لیگ درحقیقت ایک علاقائی جماعت ہے جس کا ملک بھر میں کوئی وجود نہ ہے اور اس وقت (ن) لیگ حکمران اتحاد سے علیحدہ ہونے کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے کہا کہ اس ملک میں نہ تو پہلے جمہوریت ٹھیک تھی اور نہ ہی اب ٹھیک ہے ۔ انہوں نے کہا ہمارے دور میں کوئی بحران پیدا نہ ہوا اور ہم نے مہنگائی پر مکمل کنٹرول رکھا لیکن موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد صرف ایک ماہ میں اتنی مہنگائی بڑھی جتنی گذشتہ پانچ سالوں میں بھی نہ بڑھی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والا وقت عوام کے لئے کسی بڑے عذاب سے کم نہ ہوگا۔ موجودہ حکومت کو غلط بیانی کے علاوہ کوئی کام نہیں اور غلط اعدادوشمار پیش کئے جا رہے ہیں‘ایک دن آئے گا جب ورلڈ بینک کے نمائندے یہاں آکر کہیں گے کہ جو اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں وہ غلط ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی طرف سے انصاف کی فراہمی کے لئے سوموٹو کے تحت اپنے خلاف ایکشن لینے پر ملک کی ”مقدس گائیں“ نئے سیاسی حکمرانوں کو اس بات پر قائل کر چکی ہیں کہ ان کے طاقتور اور ظالموں کو عدالتوں میں بلانے کے اختیارات ختم کردیئے جائیں متعدد بڑی پیشکشوں اور کوششوں کے باوجود معزول چیف جسٹس کا اس عزم پر قائم رہنا کہ وہ کرپشن اور احتساب کے اہم معاملات کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے کے خلاف کارروائی کریں گے، کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور جنرل (ر) پرویزمشرف مزید پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ معزول چیف جسٹس پارلیمینٹ کے اندر اور باہر بیٹھی ”مقدس گائیں“کو ہاتھ نہ لگائیں قانونی ماہرین کے مطابق معزول چیف جسٹس کو جون 2005 میں عدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس مقرر کئے جانے کے بعد سے سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ آصف علی زرداری اور جنرل (ر) پرویزمشرف کیوں ان سے خوفزدہ ہیں اور ان کی مدت ملازمت مختصر کرنے اور اختیارات ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں تاکہ اگر وہ بحال ہوں تو غیرفعال چیف جسٹس ہوں۔ قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری نے عام لوگوں کے بنیادی مسائل پر سوموٹو نوٹسز لئے اور ایسے مقدمات کی سماعت کے دوران بار بار اعلیٰ بیوروکریسی کو یاد کرایا کہ وہ بدعنوانی چھوڑ دیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں۔ جسٹس افتخار کے طاقتور اسٹبلشمنٹ کے خلاف اسی رویئے کی وجہ سے انہیں بنیادی طور پر دو بار معطل کیا گیا ان قانونی دماغوں کے مطابق شوکت عزیز حکومت ”بگ باس“ جنرل (ر) پرویزمشرف کے اہل خانہ اور دوستوں کو نوازنے اختیارات منتقل کرنے اور سہولتیں دینے کے لئے کام کررہی تھی اس کی ایک بڑی مثال معمولی قیمت پر صدر کے رشتے داروں اور دوستوں کو معمولی قیمت پر سٹیل ملز کی نجکاری ہے سٹیل ملز اور دیگر اہم قومی اثاثوں کے خریداروں میں صدر پرویز کے علاوہ موجودہ حکمرانوں کے رشتے دار اور دوست بھی شامل ہیں ان قانونی ماہرین کے مطابق یہی حقیقت جسٹس افتخار چودھری اور قوم کے لئے بدقسمتی ثابت ہوئی اور پیپلزپارٹی کے معزول چیف جسٹس کی مدت ملازم مختصر کرنے اور سوموٹو اختیارات ختم کرنے کے بارے میں سخت موقف کی وجہ بنا۔ معزول چیف جسٹس کے دور میں سپریم کورٹ نے نہ صرف عام آدمی کے بنیادی مسائل سے براہ راست تعلق رکھنے والے ایشوز پر ازخود نوٹسز لئے بلکہ ہر قسم کا دباو¿ مسترد کرکے غیرجانبدارانہ تاریخی فیصلے کئے اور اسی باعث آمریت کے غصے کو دعوت دی جسٹس افتخار محد چودھری کی طرف سے ازخود نوٹس لئے جانے والے چند مقدمات کی تفصیل درج ذیل ہے اور جو آصف علی زرداری کو معزول چیف جسٹس کے ازخود نوٹس لینے کے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پتنگ بازی کی وجہ سے لاہور سمیت مختلف شہروں میں مسلسل انسانی اور مالی نقصان کی وجہ سے ازخود نوٹس لیا۔ پتنگ بازی کی تقاریب میں پرویزمشرف بھی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے اور پتنگ اڑانے بنانے اور اس کی خرید و فروخت پر 25اکتوبر 2005 کو مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ سپریم کورٹ نے یہ کارروائی ڈور پھرنے کے باعث متعدد انسانی ہلاکتوں کے واقعات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کی اور بعض قانونی ماہرین کے خیال میں یہ پہلا بڑا کیس تھا جو حکمرانوں کے غصے کا باعث بنا۔8اکتوبر 2007ء کو معزول چیف جسٹس نے سی ڈی اے کے حکام کو اسلام آباد کے مضافات میں چک شہزادمیں ان تمام فارموں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی ہدایت کی جنہیں رہائشی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا ان فارمز کو 2003ء میں بااثرشخصیات نے معمولی قیمت پر جڑواں شہروں کی سبزیوں کی ضروریات پورا کرنے کے مقاصد سے خریدا تھا۔ ان فارم ہاو¿سوں کے الاٹیوں میں صدر پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی شامل تھے اور تخمینے کے مطابق ان فارم ہاو¿سوں کی قیمت کھربوں روپے تھی جو ایک غریب قوم کے ساتھ سنگین مذاق تھا اور3 نومبر کے بعد آنیوالی عدلیہ نے جو پہلا فیصلہ کیا وہ یہ تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے سابق احکامات کالعدم قرار دیدیئے۔ جسٹس افتخار نے ملک بھر سے سینکڑوں لاپتہ افراد کی شکایات پر ازخود نوٹس لیا ان لاپتہ افراد کو خفیہ ایجنسیوں نے مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں اٹھایا تھا اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا یہ موقف تھا کہ یہ افراد جن کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت بھی نہیں ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور ان افراد کو جیل میں رکھ کر ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے عدالت عظمیٰ صرف یہ چاہتی تھی کہ ایسے افراد منظر عام پر آئیں تاکہ ان کے اہل خانہ کو ان کے متعلق علم ہو سکے۔ معزول چیف جسٹس نے مشرف حکومت کے حمایت یافتہ لینڈ مافیا کے سربراہ شاہ شربیل کی طرف سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کچی آبادی زبردستی خالی کرانے اور ایک پبلک پارک کو تجارتی منصوبے میں بدلنے کی کوششوں پر بھی ازخود نوٹس لیا اور جسٹس افتخار کے احکامات پر وہاں رہائشی غریب معزول چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کیلئے دعا گو رہے۔ 5 اپریل 2005ء کو عدالت عظمیٰ نے سٹیٹ بینک کو صارفین کے تحفظ کے حوالے سے گائیڈ لائنز دیں جس کے نتیجے میں یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیلئے ملک بھر میں بینکوں کے باہر شیڈز بھی تعمیر کئے گئے۔ 14 اپریل 2006ء کو سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو گلبرگ کے ایک پارک (ڈونگی گراو¿نڈ) کو کمرشل کرنے اور وہاں کام کرنے سے روک دیا۔ حکومت کا وہاں ایک کمپنی کو پلازہ اور سینما بنانے کی اجازت دینے کا ارادہ تھا۔ عدالت عظمیٰ نے سی ڈی اے کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف میں ایک پبلک پارک کو گالف گراو¿نڈ میں بدلنے کے کام سے روک دیا اس منصوبے کی تکمیل سے صرف چند رئیس افراد کو فائدہ ہونا تھا جبکہ علاقے کے رہائشیوں نے بچوں کیلئے موجود واحد پارک سے محروم ہو جانا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف نائن میں فاطمہ جناح پارک میں ایک عالمی ادارے کے ریسٹورنٹ کی تعمیر بھی رکوا دی جس سے لوگوں نے شہر کے واحد بڑے پارک کے بڑے حصے سے محروم ہو جانا تھا یہ کیس ابھی تک زیر سماعت ہے۔ یکم جون 2006ء کو سپریم کورٹ نے پیمرا کے سربراہ کو ایک آرکیڈ کا غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کا حکم دیا پولیس قانونی مالکوں کی طرف سے شکایات درج کروانے کے باوجود خاموش تماشائی تھی۔ جولائی 2007ء میں سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو بااثر لینڈ مافیا کی طرف سے لاہور میں تعمیر کی جانیوالی کثیرالمنزلہ عمارت گرانے کا بھی حکم دیا۔ 14ستمبر 2006ءکو سپریم کورٹ نے کراچی سٹی گورنمنٹ کی یہ اپیل مسترد کردی جس میں اس نے کراچی کی چھ اہم سڑکوں پر کمرشل پلاٹ بنانے کی پابندی معطل کرنے کی درخواست کی تھی سندھ حکومت نے عوام نے ججز کی بحالی میں تاخیر اور خصوصاً چیف جسٹس کی مدت ملازمت کم کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اگرچہ میاں نواز شریف نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام ججز کی بحالی اعلان مری کے مطابق ہو گی اور اگر ہم قوم سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کر سکے تو ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی کوئی حق نہیں ہوگا ۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی افسر شاہی 1400 صفحات پر مشتمل وہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے ہچکچا رہی ہے جس میں 60 ہزار بااثر سیاستدانوں، آرمی افسروں، غیر ملکی کمپنیوں اور کاروباری افراد کے نام شامل ہیں۔ ان افراد نے جنرل مشرف کے دور میں بینکوں سے 54 ارب روپے کے قرضے خاموشی سے معاف کرائے ہیں اور اس قومی لوٹ مار سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے افراد پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں۔ موقع بڑا دلچسپ ہوگا جب یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی کیونکہ اس لوٹ مار سے فائدہ اٹھانے والے بااثر افراد اپوزیشن بنچوں پر سب سے آگے ہوں گے۔ اس نئی صورتحال کا رسوا کن پہلو یہ ہے کہ سٹیٹ بینک نے یہی رپورٹ سپریم کورٹ میں پہلے پیش کی تھی جہاں ایک ازخود نوٹس کے تحت ملک کی مقدس گائیوں کی طرف سے لوٹ مار کیخلاف سماعت جاری تھی لیکن پارلیمنٹ میں یہی رپورٹ مختلف حیلے بہانے بنا کر پیش نہیں کی جا رہی۔ اس بات نے ان لوگوں کو حیران کردیا ہے جو ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔ اس معاملے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سٹیٹ بینک اس وقت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے جب وزارت خزانہ کا قلمدان اسحاق ڈار کے پاس ہے۔ وہ پارلیمنٹ کو بتا چکے ہیں کہ مرکزی بینک کو متعلقہ معلومات اکٹھا کرنے کیلئے مزید وقت درکار ہے۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کے کسی افسر نے نئے وزیر خزانہ کو نہیں بتایا کہ گزشتہ ماہ یہی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جا چکی ہے۔ اس ہچکچاہٹ نے اور بھی بہت افسروں کو حیران کردیا ہے اور وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے سٹیٹ بینک کو وہ رپورٹ پیش کرنے سے روک دیا جو پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔

ُپاکستان کا جو سب سے بڑا المیہ ہے وہ ہر شعبہ زندگی میں ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری اور انیس کروڑ عوام کی دوری ہے جس کی وجہ نو آبادیاتی نظام کے رائج کا تسلسل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک سازش کے تحت انگریز کے ٹائوٹ جا گیرداروں ا ور نو آباد یاتی نظام کی سوچ کے حا مل برٹش ڈاگ بیورو کریٹوں نے ایک آزاد ملک کا نظام وضع کرنے کی بجائے ہر وہ کام کیا جس سے عوام محکوم سے محکوم تر ہوتے چلے گئے اور آج وطن عزیز کا ناک نقشہ یہ ہے کہ ساٹھ سال سے ایک فیصد طبقہ نناوے فیصد عوام کے مقدر سے کھیل رہا ہے۔ یہ مخصوص طبقہ ملکی خزانہ سے اربوں،کھربوں لوٹ بھی لیتا ہے تو اس کی معافی کے قانون بھی بن جاتے ہیں اور غریب آدمی دو ہزار کا بھی سرکار کا نادہندہ ہوجائے تو وہ ساری عمر لاوارث قیدی کی طرح جیل میں پڑا رہتا ہے۔ ہر دور حکومت میں باہر سے ایڈوا ئزر منگوائے جاتے رہے اور عوام کو چکر یہ دیا جاتارہا کہ یہ اپنے شعبہ میں ماہر ہیں اور حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی انکشاف ہوتا ہے کہ ماہرین نہیں تھے بلکہ ڈاکو تھے اور بریف کیس نوٹوں سے بھر کرفرار ہوگئے ہیں۔ میں آج ان تما م نام نہاد دانشوروں،اور خصو صی طور پر امریکہ اور برطانیہ سے ڈگری ہولڈرزتجزیہ نگا روں پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس ملک اور عوام کی ترقی کیلئے جو بھی تجزیے اور پالیسی کی بات کرتے ہیں وہ ایک سراب،دھوکہ اور فراڈ کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کا دارو مدار اردو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان اردو میں ہے اس کی وجہ اس ملک کی انیس کروڑ عوام میں سے تقریبا سترہ کروڑ ان پڑھ عوام ہیں انگریزی کی بات کرنے والوں نے ساٹھ سال میں عوام کو کیا دیا ہے سوائے دھوکہ کے۔ نظام کی تبدیلی کی بات کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ چین،روس،فرانس،جرمنی،جاپان کی طرح فوری طور پر تمام ذریعہ تعلیم بمعہ سائنس و ٹیکنالوجی اپنی زباںمیں کر دیں اگر حکمراں کسی بھی بحران پر قابو نہیں پا سکتے تو عوام پر یہ ایک نیکی ضرور کردیں اور انگریز کی طرز سوچ کے مطابق بنائے گئے پبلک سروس کمیشن کو توڑ دیا جائے۔ عوام کو ایسا کمیشن نہیں چاہیے جو عوام سے دوری یعنی نفرت کی علامت کی تربیت دے۔ اور فر فر انگریزی بول کر عوام کو بیوقوف بنانے والوں کو اوقات میں رکھا جائے اور انھیں حکومتی اداروں میں انٹر پریٹر سے زیادہ کا درجہ نہ دیا جائے۔ اردو ذریعہ تعلیم سے ایک تو شرح خواندگی کی رفتار میں تیزی آگئی اور سرکاری زبان اردو سے وہ آسانی سے سرکاری روزگار کے حصول تک رسائی حاصل کر سکیں گے ۔ جبکہ پاکستان کے عوام کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد پارلیمنٹ میں پرویز مشرف کے مواخذے کی قرار داد پیش کرے اسی لئے قوم نے انہیں ووٹ دئیے ہیں حکومتی جماعتیں آزادی و خود مختاری کیلئے امریکہ کے سامنے ڈٹ گئیں تو وہ ان کا ساتھ دیں گے ۔ پرویز مشرف کا کورٹ مارشل بھی ہونا چاہیے ۔ ججز بحال نہ ہوئے تو قوم کا امتحان ہو گا عدلیہ کی بحالی پر فوج کے سربراہ کا بھی امتحان ہو گا کہ بحال ججز کے ساتھ ان کا کیا رویہ ہو گا ۔ اقتدار کو طول دینے کیلئے قوم کے بیٹوں کو امریکہ کے سپرد کیاگیا لا پتہ افراد کے خاندانوں کے دکھوں کا ضرور مداوا ہو گا اور ان کے مصائب دور ہوں گے لا پتہ افراد کی بازیابی کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں ۔ وزیرستان ، سوات ، بلوچستان میں آپریشن بند کئے جائیں لا پتہ افراد کو بازیاب کیا جائے ، لال مسجد و جامعہ حفصہ آپریشن کے ذمہ داران کو انصاف کے کہٹرے میں لایا جائے ۔ ایجنسیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنایاجائے قوم کے سامنے طویل جدوجہد ہے امریکی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کیلئے کوئی خیر برآمد نہیں ہو گی امریکہ کی پالیسی ایک ہی ہوتی ہے امریکہ نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں اور مداخلت کیلئے افغانستان کی جنگ کو فاٹا میں منتقل کرنے کی پالیسی اپنا ر کھی ہے ۔ بزرگ شہری ، مائیں ، بہنیں ، بچے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے بے چین ہیں ۔ کیا کوئی ایسی ریاست ہے جو اپنے جوانوں کو بیچ کر جیتی ہے ۔ دشمن کے ہاتھوں میں جوانوں کو دے کر حکمران اپنے عیش و عشرت کیلئے امریکی امداد لے رہے ہیں پوری قوم نے مشرف کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے پرویز مشرف کا سب سے بڑا جرم ملکی آزادی و خود مختاری کو بیچنا ہے۔ قومی پالیسیاں بنانے کی خود مختاری حاصل کرنا ہے حکمران جماعتوں میں ہمت ہے تو وہ امریکہ سے آزادی حاصل کریں امریکی سفارت خانے میں جانا ، ڈپٹی سفیر کے ساتھ ملاقاتیں قومی وقار کے خلاف ہے نام نہاد قومی حکومت میں لوگ اغواء ہو رہے ہیں عدل و انصا ف نہیں ہے چیف جسسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی سب سے بڑا امتحان ہے پی پی مسلم لیگ (ن) اور پارلیمنٹ کا امتحان ہے کہ وہ عدلیہ کو بحال کرتے ہیں کہ نہیں ۔ معزول ججز کی بحالی کے بعد اپنے عہدوں پر آنے کے بعد فوج اور چیف آف آرمی سٹاف کا امتحان ہو گا ان کا رویہ کیا ہو گا امریکی مخالفت کا سامنا کیاجائے گا۔ کہ قوم کا بھی امتحان ہو گا کہ ججز بحال نہ ہوئے تو کیا رد عمل ہو گا ججز کا بھی ان کی بحالی کے بعد امتحان ہو گا کہ قوم کو عدل و انصاف فراہم کرنا ہے کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ لا پتہ افراد کا پوچھ رہے تھے یورپ مغرب میں ایک شخص لا پتہ ہو جائے پوری قوم بے قرار ہو جاتی ہے ہمارے ہزاروں لوگ غائب کر دئیے جاتے ہیں لوگ مارے جاتے ہیں ہمارے دانشور ، بڑے طبقات ٹس سے مس نہیں ہوتے قوم کا خزانہ بھی لوٹا گیا اور لوگوں کو بھی بیچا گیا ۔ چھتیس دن جنگ لڑی ہے اور فوج نے چھتیس سال حکومت کی ہے بدامنی کی بنیادی وجوہات امریکی پالیسیوں پر عملدر آمد کرنا ہے ۔ غریب طبقہ کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے تمام وسائل مراعات یافتہ طبقات کے بچوں کیلئے ہیں موجودہ حکمرانوں کے بارے میں یقین نہیں ہے کہ یہ امریکہ سے آزادی لینے کیلئے تیار ہوں گے اگر یہ اس راستے پر چلتے ہیں عوام ان کا ساتھ دیں گے عوام کو پارلیمنٹ کی رکنیت اور حکومت نہیں چاہیے وہ خزانے پر غریب کا حق مانگتے ہیں غریبوں کا علاج معالجے کی سہولتوں تک رسائی ہو ہم خود اپنی پالیسیاں بنائیں تعلیمی پالیسی بھی امریکہ بناتا ہے اپنی قومی زبان اردو سے محروم ہیں تعلیم کے حوالے سے ریسورس گیئر لگایا ہے جہاں انگریزی نہ تھی وہاں بھی اسے رائج کر دیا گیا اپنی زبان میں علم کا فروغ ہونا چاہیے جب تک اپنی زبان نہ ہو گی اپنا تشخص نہ ہو گا تہذیب کلچر پر حملہ ہوا ہے اپنا تشخص ، خود مختاری برقرار نہیں ہے جن جوانوں نے افغان جنگ میں فوج کا ساتھ دیا ان کی آج گردن زنی ہے عدل مر چکاہے کوئی عدالت نہیں ہے کوئی ایسا دروازہ نہیں ہے کہ انصاف کیلئے اس پر دستک دے سکیں۔ عوام کاعہد ہے کہ مرتے دم تک آزادی و خود مختاری کیلئے جدوجہد کریں گے عوام لا پتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہیں قومی آزادی کی جدوجہد میں قوم کے شانہ بشانہ ہیںملک میں گیارہ ستمبر کے بعد سے شرمناک حالات ہیں بڑی تعداد میں لوگوں کو غائب کیاگیا ریاست ماں کا کردار ادا کرتی ہے مگر مائیں ، بہنیں دربدر ہیں ریاست خود ظلم ڈھا رہی ہے غلط اقدامات کے خاتمے کا وقت آنے کو ہے ۔ظلم ، خونریزی ، نا انصافی ، جنگوں ، وسائل پر قبضے کی پالیسی امریکی جمہوریت ختم ہو چکی ہے جامعہ حفصہ کی طالبات توقع کر رہی تھیں کہ فوجی جوان انہیں ریلیف دینے کیلئے آئے ہیں مگر انہیں جلا دیاگیا جبکہ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے بارے میں پارلیمنٹ کورٹ مارشل کی قرار داد منظور کرے پرویز مشرف کو فوج کی وردی پہنا کر اس کا ٹرائل کیا جائے جس سپہ سالار کی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری تھی بیرونی فورسز کیلئے دروازے کھول دئیے امریکہ نے چھتیس حملے کئے کورٹ مارشل کے بعد آرٹیکل سکس کے تحت سزا دی جائے دیگر ملوث عناصر کی بھی گرفتار ی کی جائے بڑے بڑے دلخراش واقعات دیکھے اور سنے بارہ مئی کراچی ، لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن ، نو اپریل کے وقعات دیکھے سرکار جس کو بھی گرفتار کرے گی چوبیس گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی پابند ہے ہمارے تھانوں میں بے گناہ لوگوں کو پولیس اہلکار ایف آئی آر کے بغیر لاک اپ میں بندکر دیتے ہیں مگر ان تھانوں اورپولیس والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اگر ایسا ہوتا تو یہ معاملات آگے نہ بڑھتے عدالتوں کے فرائض مناسب انداز سے ادا کئے ہوتے تو صورتحال اس طرح نہ ہوتی لاپتہ افراد کے واقعات انتہائی شرمناک ہیں شہریوں اور ملکی غیرت و حمیت کے ساتھ چاہئے کچھ بھی ہو حکمرانوں کو کرسی عزیز ہے معاشرتی برائیوں کے خاتمے کیلئے نظام جز ا و سزا قائم کرناہو گا حکمرانوں کیلئے بھی اس نظام کو متحرک کرنا ہو گا حکمران بار بار ملکی آئین پر شب خون مارتے ہیں بار بار ملک پر اس لئے قابض ہوتے ہیں کہ عوام ماضی کو فراموش کر دیتے ہیں وہ تمام لوگ جنہوں نے کسی بھی مرحلہ بھی ملک کی آئینی مشنیری کو پٹڑی سے اتارا اور جمہوریت کا گلا گھونٹا زبردستی قابض ہوئے زندگیوں کے سودے کئے اور قوم کو سستے داموں بیچا پانچ ہزار ڈالر پر تو امریکہ میں نعشیں فروخت نہیں ہوتی جو ان واقعات میں ملوث ہے حساب کا وقت آگیا ہے قوم لا پتہ افراد کے خاندان ان سے حساب سے لیں گے آئین توڑنے والے ایک ایک شخص کی نشاندہی کی جائے سزا ایسی ہو کہ آئندہ کسی کو آئین توڑنے کی ہمت نہ ہو اس کے سوچنے کی بھی جرات نہ ہو ان خاندانوں کے پیارے جلد آئیں گے اس کیلئے کام کی ضرورت ہے موجودہ حکومت کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے پرویز مشرف کے جانے کا وقت ہے امریکہ کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ پرویز مشرف ایک بوجھ اور زندہ لاش ہے امریکہ صرف نومبرکے انتخابات تک پرویز مشرف کو رکھنا چاہتاہے ۔ ایک سپر طاقت کا مستقبل پاکستانی عوام کے ہاتھوں میں ہے نومبر سے پہلے پرویز مشرف کی رخصتی سے پہلے پرویز مشرف کی رخصتی سے امریکہ میں ری پبلکن کے بجائے ڈیمو کریٹک آئیں گے صرف پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کے ارادے کی ضرورت ہے حکمران بدل چکے ہیں لیکن ابھی عوام کا مقدر نہیں بدلہ ملک بھر میں امن و امان کا قیام مہنگائی غربت بے روزگاری کا خاتمہ عوام کو تعلیم و صحت اور انصاف کی فراہمی حکومت کی عملی طور پر ا ولین ترجیحات ہونی چاہیے میثاق جمہوریت اور اعلان مری ملک میں جمہوریت کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے نسگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ملک میں جمہوریت کی نئی تاریخ لکھی جارہی ہے ۔ آمریت کی رسوائی تو ہوئی لیکن ابھی پی ڈی اے کا ایجنڈا ادھورا ہے کیونکہ یہاں حکمران تو بدل گئے ہیں لیکن عوام کا مقدمہ بدلنا ابھی باقی ہے ۔ عوام کو مہنگائی امن و امان بے روزگاری بجلی و گیس کی عدم دستیابی اور بہت سے دوسرے مسائل دریش ہیں ۔ اس ضمن میں پورے ملک میں دیانتدار آفسران تعینات کیے جائیں جرائم بڑھنے کی وجہ کرپٹ پولیس آفیسر ہیں پاکستان انیس کروڑ عوام کاملک ہے کسی آمر کے لیے کوئی انہیں دبا نہیں سکتا جب تک اداروں خصوصا عدلیہ پارلیمنٹ اور میڈیا کو مضبوط نہیں کیا جاتا آمروں سے نجات ممکن نہیں ا جب تک عوام اور وکلاء زندہ ہیں آمروں کو برداشت نہیں کر سکتے وکلاء نے اس جدوجہد میں اپنا سب کچھ داو¿ پر لگا کر عوامی عزت حاصل کی ہے ہمیں مل کر اداروں اور ملک کی تعمیر وترقی کرنی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو قانون کی حکمرانی والا ملک دیا جاسکے اگر ہم قانون اصولوں اور ضابطوں پر چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں د ے سکتی ہماری قوم کو ترقی کے لیے قانو ن کی حکمرانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے میاں نواز شریف نے عدلیہ کی بحالی کا اپنے اراکین اسمبلی سے حلف لیا ہے ۔ انھوں نے معزول ججز کو رہائی دلائی ہے اور جلد ہی انہیں ان کے عہدوں پر بحال کریں گے آمریت کے سہارے چلنے والی سابق حکومت نے ملک کو آٹے ‘ بجلی پانی دہشت گردی لاقانونیت اور بدترین معاشی بحران سے دو چار کیے رکھا اب ایسے کرپٹ را شی لوٹ مار میں ملوث کام چور افسران و اہلکاروںکو کسی بھی صورت میں تعینات نہ کیا جائے گا بلکہ دیانتدار بااخلاق اچھے کردار اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افسران و اہلکاروں کو تعینات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ بداخلاق کرپٹ ‘ عوام کی خدمت کا جذبہ نہ رکھنے والے افسران کو برطرف کرکے گھر بھیجنے کے علاوہ لوٹ مار کرنے والوں کا بلا متیاز احتساب ہونا چاہیے کام چور کرپٹ اہلکار افسران اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ وہ سزا کے لیے تیار رہیں ۔ حکمرانوں کو عوام کی خدمت پر یقین ر کھنا ہوگا۔ ملک سے غربت ‘جہالت اور پسماندگاگی کا خاتمہ کر نا ہوگا آئندہ تمام فیصلے اتحادیوں سے باہمی مشاورت اورتقرریاں و تبادلے میرٹ کی بنیاد پر کرنا ہونگے ا ور امن وامان کی ناقص کارکردگی اور جرائم پر کنٹرول نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے نئی حکومت نے بھی جمہوریت کو انتشار کی نذر کیا تو عوام اسے بھی مسترد کر دیں گے۔ آج پورے ملک میں (ق ) لیگ اپنے کرتوتوں کی و جہ سے عوامی نفرت کی علامت کا نشان بن چکی ہے اور ان کے ظلم کے ستائے ہوئے لوگ جگہ جگہ ان کا انڈوںا ور ڈنڈوں سے استقبال کرتے ہیں یہ تو مکافات عمل ہے اب پرویز مشرف کے لیے پاکستان اوراقتدار میں کوئی جگہ نہیں(ق) لیگ کی لوٹ مار کو بے نقاب کرکے ایک ایک پائی وصول کی جائے اور اعلان مری پر ہر صورت عملدرآمد کو ممکن بنا یا جائے کیو نکہ یہ ملک عوام کا ہے یہ کسی جاگیر دار،سیاستدان یا کسی فوجی حکمران کے باپ کی جاگیر نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کی زبردست عوامی مزاحمت ہو سکتی ہے ۔ امریکہ اپنے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پرویز مشرف کو نومبر تک صدر کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ری پبلکن کو خوف ہے کہ پرویز مشرف نکال دئیے گئے تو کانگریس اور صدارتی انتخابات ہار جائے گی ۔ وکلاء تحریک کا میابی کے قریب ہے ۔ کسی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ عدلیہ کی بحالی کے لئے شروع کی گئی تحریک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور اب وہ وقت دور نہیں جب تمام ججز بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ملک کے عوام وکلاء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںجنہوں نے بہت سے مصائب اور مالی مشکلات کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھا اور اب ان کی جدوجہد رنگ لانے والی ہے ۔ ا دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے عزم پر قائم رہتی ہیں اور اتنے مصائب و الا م کے باوجود ان کے عزم و حوصلے میں ذرا برابر لغزش نہیں آتی۔ وکلاءکی تحریک دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی مستند جدوجہد ہے ۔ یوم شہداء کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے طاہر پلازہ کراچی کا دورہ کیا جو کچھ دیکھا وکلاء نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ہم کسی صورت چیف جسٹس صاحبان کی مدت میں کمی نہیں ہونے دیں گے اور ایسی ترمیم پاکستان میں کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی ۔ اب یہ بھی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ فلک شیر کو چیف جسٹس بنا دیا جائے ۔ وجیہہ الدین نے کہا کہ یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے یہ غیر آئینی غیر قانونی ہے ہمیں یقین واثق ہے کہ خود شیر فلک بھی ایسی کسی آفر کو قبول نہیں کریں گے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ 3 نومبر کی ایمرجنسی اور پی سی او عدلیہ کا گلا گھونٹنے کیلئے لگائی گئی تھی ۔ اس غیر آئینی حکم سے انکار پر 60 سے زائد ججوں کو گھر جانا پڑا ۔ پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ کو یہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ اسے کوئی جواز فراہم کرے ۔ چیف جسٹس اور دیگر ججوںکو بغیر کسی تحریر آرڈر کے اپنے اہلخانہ سمیت گھروں میں قید کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے ۔ 9 مارچ 2007ء کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجتے ہوئے انہیں معطل کردیا گیا اور گھر میں ر بند کردیا گیا ۔ یہ عدلیہ کو رسوا کرنے کی کوشش تھی جس کے خلاف وکلاء ،عدلیہ اور پوری سوسائٹی نے مداخلت کی ، لا ہور بار کا اس حوالے سے سب سے اہم کردار رہا ہے ۔ جب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بار کے استقبالیہ میں شرکت کیلئے آئے تو چار گھنٹے کا سفر 25 گھنٹے میں طے ہو سکا ۔ جس طرح کا استقبال لاہور میں کیا گیا اس سے پورے ملک کے عوام اور وکلائکو تقویت ملی اور پھر 20جولائی کو عدلیہ کے وقار اور عزت کی بحالی کا فیصلہ ہوا لیکن پھر اڑھائی ماہ بعد ہی عدلیہ پر دوسرا وار کیا گیا جو صریحا بد نیتی پر مبنی تھا اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے پی سی او جاری کردیا گیا ۔ اس ایمرجنسی یا پی سی او سے کوئی حکومت یا پارلیمنٹ گھر نہیں گئی بلکہ اس کے ذریعے عدلیہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی اور 60 سے زائد ججوں کو گھر جانا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اپنی اس تحریک میں ثابت قدم رہیں ان کی منزل نزدیک سے نزدیک تر آتی جارہی ہے ۔ جسٹس (ر) بھگوان داس نے کہا کہ 1981ء2000ء اور 3 نومبر 2007ء کو آنے والے پی سی اوز میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ 81ء میں جنرل ضیاء الحق کے پی سی او سے بعض ججوں نے انکار کیا لیکن انہوں نے پنشن کی مراعات قبول کرلیں اسی طرح 2000ئمیں جاری ہونے والے پی سی او سے بھی چیف جسٹس سمیت 6 ججوں نے انکار کیا لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ قبول کرتے ہوئے انہوں نے بھی پنشن وصول کی لیکن 3نومبر 2007ء کو جاری ہونے والے پی سی او سے جن ججوں نے انکار کیا انہوں نے آج تک اسے تسلیم نہیں کیا انہوں نے پنشن کی مراعات قبول نہیں کیں اور وہ آج بھی آئینی جج ہیں اور اس بات کو پوری قوم بھی تسلیم کرتی ہے 23 نومبر 2007ء کی سپریم کورٹ کا فیصلہ خودساختہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں جب پی سی او جاری کرنے والا شخص خود یہ اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے3 نومبر کو غیر آئینی اقدام کیا ہے ۔ تو پھر خودساختہ عدالت کے پاس اس اقدام کو جائز قرار دینے کا کیا جواز تھا ۔ چیف جسٹس کو خاندان سمیت بغیر تحریری آرڈر کے گھر میں قید رکھا گیا کسی کو ملنے کی اجازت نہ دی گئی اس اقدام کی نہ تو قانون اجازت دیتا ہے نہ ہی یہ اخلاقی ہے بلکہ اس سے ہمارے ملک کا عالمی سطح پر وقار مجروح ہوا ہے ۔ پوری دنیا کے سامنے ہم شرمسار ہیں ۔ سب کو چاہیے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر احکامات کو مسترد کردیں

ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں نے جو دو ٹوک اعلان اور کمٹمنٹ دی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ غیر آئینی صدر کے جلد مواخذہ کا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے جبکہ یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن نے پاکستان میں 18 فروری2008 کے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ میں ان انتخابات کو مسابقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے تمام امیدواروں کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے، سرکاری میڈیاجانبدار رہااور سابق حکمران جماعت اور نگران انتظامیہ کو کوریج دی گئی، سابق حکمران جماعت ق لیگ نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا تاہم انتخابی نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی قبولیت حاصل رہی۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور چیف انتخابی مبصر مائیکل گیلر نے بدھ کو یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کی حتمی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فروری 2008ء کے انتخابات مسابقتی تھے اور عوام و سیاسی جماعتوں نے نتائج کو قبول کیاتاہم پاکستان میں انتخابات کے ڈھانچے اور صورتحال میں مستقل مسائل موجود ہیں، اگر انہیں حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتخابی مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔ پاکستانی حکام، سیاسی جماعتوں اور شہری معاشرے پر زور دیا کہ وہ سرعت سے انتخابی اصلاحات سرانجام دیں اور وہ ایک سال بعد دوبارہ پاکستان آکر حالات میں پیش رفت کا مشاہدہ اور اپنی رپورٹ یورپی پارلیمنٹ کو پیش کرینگے۔ مائیکل گیلر نے مزید کہاکہ انتخابات میں زیادہ اہم کردار ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے ادا کیا اور اس عمل کی گہری جانچ پڑتال کی تاہم مجموعی ڈھانچے اور حالات کے تحت منعقدہ انتخابات میں سنگین مسائل درپیش رہے اور انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں سابق حکمران جماعتوں کے حق میں تعصب کے باعث یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور کارکردگی پر اعتماد میں کمی نظر آئی، انتخابی مہم مدھم اور سست روی کا شکار رہی اور انتخابات سلامتی کے مخدوش حالات میں ہوئے جبکہ انتخابی اجتماعات پر حملوں کے دوران 100 سے زائد سیاسی کارکنان ہلاک ہوئے، جن میں ایسے ہی ایک المناک واقعہ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شکایات اور اپیلوں کے طریقہ کار پر اعتماد کی کمی ہے ۔مائیکل گیلر نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان میں انتخابی عمل میں اصلاحات کیلئے ہرممکن مدد دینے کو تیارہے کیونکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتخابات کے ڈھانچے اور حالات میں اصلاح کیلئے 82 سفارشات دی گئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار عدلیہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں جس پر متعلقہ افراد کو اعتماد ہو تاکہ انتخابی عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے،انتخابی قانون سازی کا مشاورتی اندازسے جائزہ لیاجائے، مخصوص حل طلب معاملات میں انتخابی انتظامیہ کی خود مختاری اور شفافیت، شکایات اور اپیلوں کے ضوابط اور امیدوار کی شرائط پر حد سے زیادہ پابندیاں شامل ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر متعلقہ افراد کی مشاورت سے مشروط ہو اور اس میں ان کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے جبکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہئے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ خودمختار تقرری کے حامل ججوں کو عدالتوں اور ٹربیونلز کے پاس آنیوالی انتخابی اپیلوں کو بروقت نمٹانا چاہئے، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حلقے اور انٹرنیٹ پر فوری آویزاں کئے جائیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک درست اور مکمل انتخابی فہرست تیار کرنی چاہئے۔ یورپی یونین انتخابی مبصر مشن نے انتخابی مشاہدہ کاری کے عرصے کے دوران پاکستانی عوام کے تعاون، اعانت اور پذیرائی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی نئی حکومت کو ورثے میں ملی ہے جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اب 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان بحال ہوں گے ۔ ججوں کی بحالی میں اب کوئی ابہام نہیں رہ گیا اب افتخار چوہدری کو بحال اور پرویز مشرف کو جانا ہو گا ۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں انہی بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے لیاقت علی خان ‘ ضیائ الحق کو قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھا نسی پر چڑھایا تھا اس بات کا اغلب امکان ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کی بحالی سے بھی قبل صدر کو مواخذے کے ذریعے ہٹا دے ۔ پارلیمنٹ حالات کو اس طرف لے جا رہی ہے جس کا تقاضا عوام کر رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے جانے کا اب وقت آ گیا ہے انہیں اب بہرحال جانا ہو گا ۔ اگر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر پاکستان اور عوام کی خواہش کو بحال ہونا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری بحال اور صدر مشرف مستعفی ہوں ۔ سیاست کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت عوام کی مجموعی سوچ یہی ہے کہ صدر مشرف اب جائیں اب مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ امریکہ کا کہنا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ۔ یہ غلط ہے ہمارا کنٹرول کا نظام بڑا موثر ہے ۔ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر مشرف کو اب جانا پڑے گا صدر کی رخصتی اب حتمی ہو گئی ہے ۔ خواہ یہ خونریزی کے ذریعے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ہو بہرحال اب ان کے لئے جانا ضروری ٹھہر گیا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی صدر مشرف کے لئے اب کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتظامیہ ذلیل ہوئی ہے اور اتنے لوگ مارے گئے ہیں اس لئے اب صدر کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔ نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا جس سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ صدر مشرف کی وجہ سے ہو رہا تھا اب لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اب نہیں رہیں گے ۔ قوم امن پسند ہے ایف بی آئی کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ سی آئی اے وغیرہ سب دندناتے پھر رہے ہیں ان کو کھلی چھٹی پرویز مشرف نے دے رکھی ہے دشمن ہمارے اندر گھس آئے ہیں وہ ہمارے اداروں کے اندر موجود ہیں اور پاکستان میں تشدد آمیز جو واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے انہی کی سوچ استعمال ہو رہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے لیاقت علی خان قتل کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ۔ ضیاء الحق کو قتل کیا یہ عالمی استعمار ہیں جن کے سربراہ امریکہ ہیں یہ پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بے نظیر بھٹو ان سے باغی ہو گئیں تھیں نیگرو پانٹے جب بے نظیر سے ملنے پاکستان آئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت فیصلہ ہو گیا تھا ۔ انہوں نے یہاں بے تحاشا وسائل جمع کر رکھے ہیں ان سب باتوں کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ بے نظیر کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا ایک نہیں بلکہ کئی مہرے موجود ہیں ۔ امریکہ کو امت مسلمہ کے خلاف ہر سازش میں ناکامی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو اسے سورج کے نیچے کہیں بھی سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک کے بعد دوسری حماقت کی ہے اسے مشرق وسطی ، افغانستان ، لبنان ، فلسطین ہر جگہ پر ناکامی کا سامنا ہے جبکہ وہ عراق میں بھی اذیت ناک شکست سے دوچار ہے اور مزید دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی مدد سے حملہ کیا، اسلحہ فراہم کیا، روپیہ پیسہ بھی دیا لیکن لبنان کے عوام نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعے اس کی جارحیت کو ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران جو ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے کوشاں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گا ۔ اب امریکہ کو عقل کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور ان سازشوں سے باز آجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو ہر صورت ختم ہونا ہے ۔ ہم امریکی عوام کے خلاف نہیں ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی چاہتے ہیں ۔ لیکن امریکہ کو مسلم دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں وہ اپنی ہر اس سازش میں ناکام رہا اس نے شاہ ایران کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی شناخت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی حیثیت سے ہمیں دنیا بھر میں متحد ہونا ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف ہیں لیکن ان تمام مذاہب کو جو ان میں 90 فیصد مشرکات موجود ہیںاس پر عمل پیرا ضررو ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی امت مسلمہ کے اتحاد اور اسے قرآن کے پیغام کے تحت متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ،ایران کے نوجوانوں نے ان کی کتب سے دین اسلام کے حوالے سے بہت رہنمائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وجہ ہے کہ آج دنیا اسلام ممالک میں 207 بینک بغیر سودی بینکاری کر رہے ہیں جن میں 400 ارب ڈالر گردش میں ہیں ۔ ہمارا اصل ہدف اللہ کے پیغام کی سربلندی ہے ۔