Wednesday, May 21, 2008

عوام کا قانون شکن قیادت سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔۔۔ تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد

حکومت کومعاشی استحکام کے لیے سخت کام کر نا ہوگا تاکہ آئندہ بجٹ عوام دوست ہو جس میں غریب عوام کو ریلیف پیکج فراہم کیا جاسکے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اشیائے خورد نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر عوام کو کیسے ریلیف دیا جائے۔ عوام کو قومی مجرموں نے مصیبت میں ڈال دیا ہواہے اور دور دور تک دکھائی نہیں دیتا کہ تمام بحرانوں پر قابو پا لیا جائے گا۔ حکمرانوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے اور عوام ایک وقت کی روٹی کیلئے بلبلا رہے ہیں۔ملک میں انصاف نا م کی کوئی چیز نہیں اور جس ملک میں انصاف نہ ہو و ہاں چور چکے اور قرضہ چور بد معاش دن دیہاڑے پو لیس اسکواڈ کے پروٹوکول میں سرعام دھند ناتے پھرتے ہیں۔ ججز کی بحالی کے بعد بھی اگرچہ تما م بحران جوں کے توں رہیں گے لیکن یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ بحران کے پیدا کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف کار وائی ضرور ہوگی۔ اور اس وقت عوام کا تماشا دیکھنے والے سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ کے منہ زور قانون شکن بد معاش جوابدہ ہوں گے۔ اور جب ان سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پوچھیں گے کہ یہ کر سی اور اقتدار آپ کو جہیز میں نہیں ملا اور جب انہیں بتا یا جا ئے گا کہ یہ ملک آپ کے باپ کا نہیں کہ آپ جو چاہیں من ما نی کر تے رہیں بلکہ یہ ملک اس سولہ کروڑ عوام کا ہے جس کی خوشحالی اور ترقی کے نا م پر آپ اربوں ڈالرز غیر ملکی قرضے کھا گئے ہیں اور یہ سا را بوجھ مختلف بحرانوں کی شکل میں عوام کے کندھوں پر ڈال پر دیا گیا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے کہ تما م قومی مجرم ،ججز کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس وقت ججز کی بحالی ملک و قو م کی بقا کا مسئلہ ہے۔ عوام اس وقت آٹا،بجلی،پانی،مہنگائی،بے روزگاری اور نا انصافی سے تنگ آ کر چلا رہے ہیں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ اور نہ ہی کوئی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اقتدار کی ہوس نے سب کو اندھا کر کے رکھ دیا ہے کو ئی بھی اقتدار چھوڑنے کو تیا ر نہیں قانون شکن ما فیا بے شرم ہو چکا ہے اور ایک دوسرے کی ٹا نگیں کھیچنے میں لگا ہوا ہے۔ اس وقت جو ملک کے حا لات کا ناک نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ سرحد والے اپنی من ما نی کر رہے ہیں، پنجاب والے اپنی من ما نی کر رہے ہیں جبکہ گورنر پنجاب اپنی بیان بازی کر رہے ہیں اور یہی صورت حال مر کز میں ہے کہ پیپلز پا رٹی کس خفیہ ہاتھ سے بلیک میل ہو رہی ہے ؟ جو کہ حیران کن بات ہے حالانکہ پیپلز پا رٹی کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی قیادت ماضی میںکسی حا ضر سروس جر نیل سے بھی بلیک میل نہیں ہوئی ۔جان دے دی لیکن اپنے اصولی موقف پر ڈٹی رہی۔ ایوان صدر اپنی جگہ ڈٹا ہوا ہے۔ن کے وفاقی وزراء کے جانے سے وازرتیں خا لی پڑی ہوئی ہیں اگرچہ ان کے اضافی چارج دے دیے ہوئے ہیں لیکن ایک وزیر کے پاس چار چار اضافی چارج ہیں وہ کسی ایک وازرت میں وقت نہیں دے سکتا جس کی وجہ سے عوام کو دقت کا سا منا ہو رہا ہے ۔ پیپلز پا رٹی کے اراکین اسمبلی کی اکثریت ہے لیکن قیادت کو ان پر اعتبار ہی نہیں کہ انھیں کسی وزارت کی ذمہ داری سونپی جا سکے۔ ان وزارتوں کے متعلقہ محکموں اور ڈا ئریکٹورٹ میں طرح طرح کی من مانیاں اور اختیارات کا غلط استعمال کر کے وہاں کے ملازمین اور عوام کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ عوام کو وزراءکی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے رسائی حاصل نہیں ہورہی اور آئے روز مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم جناب خورشید شاہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ وفاقی نظامت تعلیمات کی بھی خبر لیں وہاں کچھ اساتذہ کو دو دو سال سے مکا نوں کا کرایہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے انھیں کئی مسائل کا سامنا ہے کرایہ اسلئے نہیں دیا گیا کہ بجٹ شاٹ ہے بلکہ بعض سکولز کی پر نسپل نے بعض ٹیچر کو تنگ کرنے کیلئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہائرنگ فارمز کی تصدیق ایک سال تک روکے رکھی اور جب ایک سال بعد ان کی فائل جمع ہوئی تو پتہ چلا کہ اب بجٹ شاٹ ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم اور قائم مقام ڈی جی ایجوکیشن عتیق الرحمن سے گزارش ہے کہ ان پر نسپلز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور اس ضمن میں ایف جی جونئیر ماڈل سکول کی پر نسپل مسرت صادق کے دحونس آمیز رویے کا سکینڈل قومی اخبارات میں آ چکا ہے لیکن اس کے خلاف ابھی تک کو ئی کا روائی عمل میں نہیں آسکی۔ جسکی وجہ وفاقی نظامت تعلیم میں اسے ان کا لی بھیڑوں کی پشت پنائی حاصل ہے جو مسرت صادق جیسی بدکردار پر نسپلز کو استعمال کر کے شریف النفس ٹیچرز کو ذہنی کو فت پہنچا تے ہیں اور ان کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سازشیں کر کے اور جھوٹے الزامات لگا کر بد نام کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنی اولین فرصت میں حل کریں اور اس سر کش پر نسپل کے خلاف کا روائی کریں تاکہ اس پتہ چلے کہ اختیارات کا غلط استعمال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔جبکہ اب عوام عدلیہ کی آزادی اور آئین وقانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس وقت ملک میں لاقانونیت کا سیلاب آیا ہوا ہے جس میں عوام خشک تنکوں کی طرح بہہ رے ہیں اور بعض ڈوب کے مر رہے ہیں اگرچہ فوج کو سیاست سے دور کیا جا رہا ہے جو کہ جنرل کیا نی کا ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن پاک فوج کی یہ روایت اور شان رہی ہے کہ جب بھی وطن عزیز میں کوئی ناگہانی آفت یا مصیبت آئی ہے اس نے اس عوام کو بچانے کی کوشش کی ہے مثال کے طور پر ملک کے کسی حصے میں جب بھی کوئی سیلاب آیا ہے تو پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ڈوبتے لوگوں کو بچایا ہے بلکہ ہیلی کاپٹروں سے ان تک خوراک بھی پہنچانے کا اہتمام کیا ہے میرا بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں قانون شکن اور اقتدار کی ہوس کے بھوکے قومی مجرموں کی وجہ سے مختلف بحرانوں کا سیلاب آیا ہوا ہے اور یہ سیلاب اتنا شدید ہے کہ عوام کو کچھ نظر نہیں آ رہا کہ یہ بحران کسی کنارے بھی لگے گا اور اس کے حل کیلئے عوام کو فوج کی مدد درکار ہے عوام ا پنی پاک فوج سے بے حدمحبت کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں نااہل قیادت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں درا ڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہمارے عوام با شعور ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کہ ہماری پاک فوج دنیا کی ایک بہترین منظم فوج ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کو پاک فوج کھٹکتی ہے۔ ملک میں اس وقت جو عدلیہ کا بحران ہے اس کو عوامی خواہشات اور قانون کے مطابق حل کرنے میں کوئی بھی تیار نہیں اور بچوں کی طرح ہر کوئی ضد کر رہا ہے کہ میں ئینی صدر ہوں کوئی کہتا ہے کہ ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے کوئی کہتا ہے کہ عوام نے عدلیہ کی بحالی اور مشرف کی پا لیسوں کے خلاف ووٹ دیے ہیں وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل کر نے کی کسی کو ہوش نہیں ۔عوام کدھر جائیں تو اس نا امیدیں میں بھی عوام ما یوس نہیں کیونکہ ان کی نظریں پاک فوج کے سر براہ پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ آئینی بحران کو حل کرنے میں عوام کی مدد کریں گے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاک فوج قوم کی حمایت سے موجودہ اور ابھرتے ہوئے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ جبکہ عوام نے خبر دار کیا ہے کہ مائنس ون یا مائنس ٹو کا فارمولہ وکلاء اور عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہر صورت بحال ہونا ہے ان کے بغیر معزول ججوں کی بحالی وکلاءتحریک کے منافی ہوگی جس پر سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ وکلاء تحریک کو عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے اور آئندہ چند روز کے اندر وکلاء تحریک کا فیصلہ کن اور آخری راو¿نڈ شروع ہونے والا ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹ کے دیگر معزول جج صاحبان کو 24 مئی کو فیصل آباد اور اس کے بعد لاہور میں وکلاء کنونشن کے موقع پر آئین کے تحت ان جج صاحبان کو مکمل پروٹوکول اور سیکورٹی فراہم کرے گی جبکہ وکلاء تحریک کے دوران لانگ مارچ سمیت ہر ایونٹ کے موقع پر وکلاء کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی ۔ مسلم لیگ (ن) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے ججوں کے معزولی کے 3 نومبر کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی سمجھتی ہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔ لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور معزول کئے جانے والے دیگر تمام ججوںکو آئین کے تحت انہیں سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا وہی پروٹوکول ہو گا جو آئین و قانون کے تحت ایک چیف جسٹس کا ہونا چاہیئے کیونکہ آئین کے تحت انہیں معزول نہیں کیا گیا اور عوام کی نظرمیں وہ آج بھی حقیقی چیف جسٹس ہیں ۔ ججوں کی بحالی کے حوالہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم ان کی بحالی کیلئے طریقہ کار پر اختلاف ضرور ہے ۔ وفاقی حکومت تو ان ججوں کو تنخواہ دینے کی پیش کش بھی کر چکی ہے ،تنخواہ صرف حاضر سروس ججوں کو ہی دی جا سکتی ہے ۔ ججوں کی بحالی کوئی غیر آئینی مسئلہ نہیں ہے اس لئے کسی کو بھی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیئے ۔پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے بیشتر اختلافات کو دور کیا جا چکا ہے ۔ باقی ماندہ اختلافات دور کرنے کیلئے دونوں جماعتوں کی جانب سے 3`3 ارکان پر مشتمل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے ۔ اگر چیف جسٹس کے پروگراموں پر متعلقہ بار ایسوسی ایشن سیاسی رہنماو¿ں کو شرکت کی دعوت دیں تو اسے قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ماضی میں ایسے پروگراموں میں سیاسی رہنماو¿ں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تاہم مسلم لیگ (ن) کے ورکرز چیف جسٹس اور دیگر معزول جج صاحبان کا بار ایسوسی ایشن کی باو¿نڈری وال کے باہر بھرپور استقبال کریں گے ۔ ایک گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے مسلم لیگ (ن) کا کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے تاہم جب وہ نگران وزیر تھے اس دوران کچھ مسائل ضرور پیدا ہوئے ۔ پنجاب حکومت کی معزول ججوںکو پروٹوکول دینے کی پالیسی ایوان صدر سے ٹکراو¿ نہیں ہے ۔ جب 3 نومبر کا اقدام ہی غیر آئینی اور غیر قانونی تھا تو پھر ٹکراو¿ کیسا ۔ جبکہ پنجاب کے وزیر قانون نے یہ بھی کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے مسلم لیگ اپنی صوبائی حکومت سمیت کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کر ے گی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف کو بھی پنجاب حکومت سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ یہاں آئیں گے تو اس کا فیصلہ بھی کرلیا جائے گا ہماری اپنی سیاسی سوچ اور اپنا منشور ہے جس پر ہم اپنے اپنے طریقے سے عمل پیرا ہیں ۔ ایوان صدر نے 18 فروری کے انتخابات کے نتائج کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا حالانکہ جنرل (ر) پرویز مشرف انتخابات سے پہلے اعلان کر چکے تھے کہ اگر ان کی حامی جماعتیں الیکشن ہار گئیں تو وہ مستعفی ہو جائیں گے ۔ قوم مایوس نہ ہو ججز ایک نہ ایک دن ضرور بحال ہوں گے ۔ مسئلہ کشمیر کا ایسا حل ہونا چاہیے جو دونوں ملکوں کو قابل قبول اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔ ججز کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی سے دوبارہ معاہدہ کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کو گولی سے نہیں بات چیت سے خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کیاجا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقد یر کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہونا چاہیے ۔با اختیار حکومت ہی روٹی کپڑا اور عوام کے دیگر مسائل حل کر سکتی ہے ۔ پنجاب کے گورنر کی تعیناتی پرن کو اعتماد میں نہیں لیاگیا انھیں اقتداد چھوڑنے کا نہیں اتحاد ٹوٹنے کا دکھ ہے ۔ ملک میں عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی میں میڈیا کا کردار قابل تحسین ہے قوم کا حکمران اتحاد کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے مگر ججوں کو بحال نہ کر کے قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ اتحاد ٹوٹنے سے ایوان صدر میں تھوڑی سی جان پڑی ہے۔ لوگوں نے تبدیلی کیلئے ووٹ استعمال کیا مگر ابھی تک تبدیلی نظر نہیں آرہی ابھی تک وہی چہرے اقتدار پر براجمان ہیں ۔ پرویزمشرف کے تمام اقدامات کو ختم کرنے میں کیا امر مانع ہے ۔ لوگ ججز کی بحالی چاہتے ہیں نواز شریف نے آصف علی زرداری سے ایک معاہدہ کیا مگر اس پر تاحال عمل نہیں ہوا مشرف ابھی تک سیٹ پر موجود ہیں اس لئے لوگ مایوس ہیں اتحاد میں دراڑ جس نے بھی ڈالی ہے قوم سب جانتی ہے پہلی مرتبہ دو بڑی جماعتوں نے اتحاد قائم کر کے ایک نئی مثال قائم کی مگر اس میں دراڑ سے قوم مایوس اور پریشان ہے اتحادی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ ڈکٹیٹر کے تمام غیر آئینی اقدامات کو فوراً ختم کر دیتی مگر تاحال مسئلہ جوں کا توں ہے دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی اسی کے تحت ہی معاہدہ طے پایا مگر اس پر عملد رآمد نہیں ہو سکا جس سے قوم میں مایوسی پھیلی ۔ ججز کی بحالی کیلئے سادہ قرار داد ہی کافی تھی کہ آئینی پیکج کی ضرورت نہ تھی جمہوریت کے دشمن جو مختلف روپ دھار کر بیٹھے ہوئے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ مل کر ڈکٹیٹر کے اقدامات کو ختم کریں وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوریت پھلے پھولے ۔ جبکہ نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں کابینہ سے استعفے دینے پر افسوس ہے ہم نے بیس سال متحارب رہنے کے بعد اتحاد کا راستہ اپنایا تھا مگر یہ زیادہ دیر نہ چلا اس کا ہمیں افسوس ہے انہوں نے کہا ہے کہ اقتدار کی لالچ نہیں اگر ایسا ہوتا تو اتنی وزارتیں نہ چھوڑتے ہمارے سامنے ایک مقصد تھا مگر افسوس کہ وہ پورا نہ ہوا ہم کسی آمر کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک نہیں کرنا چاہتے میرے خیال میں آصف علی زرداری نے ایسا نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ججز بحال ہونے چاہیے تھا عدلیہ صرف ہماری نہیں پوری قوم کی ہے او رپوری قوم کو اس کی بحالی کی امیدیں ہو چلی تھیں قوم کی محبوب عدلیہ کو مشرف نے نکال کر اپنی من پسند عدلیہ لگائی عدلیہ کو بحال کر کے قوم کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے تھا مگر افسوس ہم کامیاب نہیں ہو سکے قوم نے ہمیں ججز کی بحالی کیلئے ہی ووٹ دیا تھا ہم نے ایسا نہ کر کے قوم کو مایوس کیاہے ہم نے اس مقصد کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لندن گئے دبئی گئے انہوں نے امید ظاہر کیا کہ ججز ایک نہ ایک دن عزت ووقار کے ساتھ ضرور بحال ہوں گے۔ تاہم اس کیلئے ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کب بحال ہوں گے مگر اتنا ضرور ہے کہ وہ ضرور بحال ہوں گے ۔ میڈیا کی اس سلسلے میں کوششوں کی داد دیتا ہوں ایک سوال پر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا اصولی موقف ہے کہ آمر کبھی بھی غیر قانونی طور پر اقتدار میں نہیں رہ سکتا مصمم ارادہ یہی ہونا چاہے کہ عدلیہ آزا دہو میڈیا آزاد ہو فوج کی سیاست میں مداخلت ختم ہو ہمارا ملک ہماری عزت کا سمجھوتہ نہ ہو ہمارے فیصلے ملک کے اندر ہی ہوں باہر نہ ہوں لوگوں نے پارلیمنٹ با اختیار منتخب کی ہے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کو بالادست ہی رکھیں اگر ایسا نہیں تو قصور ہمارا ہے کسی اور کا نہیں ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنے اختیارات واپس لے اس کا فائدہ قوم اور ملک کو پہنچے گا سیاسی جماعتوں کو تو پہنچے گا ہی عوام نے ہمیں اختیار دیا ہے ہمیں چاہیے کہ اپنا اختیار استعمال کریں اسی اختیارات سے آٹا ، بجلی اور ضروری اشیاء سستی کریں آج عوام روٹی کی وجہ سے بلبلا اٹھے ہیں بجلی نہیں ہے اگر پیچھے سازشی عناصر بیٹھے ہوں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہمیں چائیے کہ ججز بحال کرتے سترہویں ترمیم کرتے آئین بحال کرتے صدر سے غیر قانونی اختیارات واپس لیتے ہم اس سب کو ممکن بنانے کیلئے ساتھ دینے کو اب بھی تیار ہیں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے منشور میں ججز ،معیشت کی بحالی کی بات ہے امن وامان کی بات کی ہے عوام کو ریلیف د ینے کی بات ہے ججز کی بحالی ، عدلیہ کی آزادی پر ملک و قوم کا مستقبل وابستہ ہے نواز شریف اس معاہدے کا پابند ہوں جو مری میں ہوا اگر پیپلزپارٹی اس سے ہٹی ہے تو میں نے اسے منانے کی بھرپور کوشش کی ہے عوام کا ہمارے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے مگر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے ہم کبھی بھی پیپلز پارٹی کو غیر مستحکم نہیں کریں گے ہم اس عمل کو چلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت حکومت سے باہر آگئے ہیں حکومت کو گرانے کی کوئی بات نہیں کریں گے بلکہ چلانے میں مدد کریں گے ججز کی بحالی اگر اعلان مری کے مطابق ہوتی ہے تو دوبارہ اتحاد کے آپشنز کھلے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ مشرف ہمیں سائیڈ پر کر دیں اگر ہم کابینہ سے باہر ہو گئے ہیں تو کوئی قیامت نہیں آئی مشرف نے آگے ہمیں ملک سے باہر کر دیا تو سیاست اور عوام کے دلوں سے تو باہر نہیں کر سکے ہم الحمد اللہ اب بھی عوام اور سیاست میں موجود ہیں پرویزمشرف سیاسی اور اخلاقی طور پر بہت کمزور ہو گئے ہیں ایوان صدر اٹھارہ فروری کو تو بالکل فارغ ہو گیا ہے ہمارے اتحاد ٹوٹنے سے تھوڑی سے اس میں جان پڑی ہے انہوں نے کہاکہ فوج کو ا پنا کام کرنا چاہیے صدر یا سیاستدانوں کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے قوم اور ملک کی ہوتی ہے وہ کسی شخص کی نہیں ہوتی اس وقت فوج اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اسی طرح ہمیشہ ہونا چاہیے ماضی میں مشرف نے جو کچھ کیا ہے وہ قوم کی طرف سے نہیں کیا ہے اس وقت کے جرنیلوں کو اس کام کیلئے مشرف کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہو سکتا ہے کہ صدر بش کی ذاتی حمایت مشرف کے ساتھ ہو مگر انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ حالات کیا رخ اختیار کر چکے ہیں ہم پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیکھنا چاہتا ہم کسی بیرونی طاقت کی ملک کے اندر مداخلت کو پسند نہیں کر تے ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم ججز کو اندرونی طورپر بحال کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ عوام میں مایوسی کی کیفیت ہے تاہم ہم حالات کو بحال ضرور کر لیں گے ہم جمہوری سسٹم کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے انہوں نے کہاکہ ججز کی بحالی پاکستان کو مستحکم کرے گی اگر ایسا ہو گا تو ہم بہت خوش ہوں گے ہم پھر سے زرداری کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں گے پنجاب میں ہماری مخلوط حکومت ہے پیپلزپارٹی کو ہر فیصلے میں اپنی اتحادی جماعت سے پوچھنا چاہیے ان کے ووٹ ہم سے کوئی بہت زیادہ نہیں اس لئے کوئی فیصلہ کرنا سے پہلے ہم سے ضرور پوچھا جانا چاہیے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہماری پارٹی کو نقصان پہنچایا ان کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے طاقت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا طاقت استعمال کر کے دیکھ لیا گیا ہے دہشت گردوں کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ بات چیت کا راستہ ہر ایک کیلئے کھلا رکھنا چاہیے ڈاکٹر قدیر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات کو حل ہونا چاہے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اگر دونوں ممالک کے درمیان ویزہ سسٹم ختم کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے دونوں جانب کی عوام کو آر پار آزادانہ آنا جانا چاہیے میں بھارتی حکام سے بھی صرور بات چیت کروں گا کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے ہم چاہتے ہیں کہ کارگل کے مسئلے پر کمیشن قائم ہونا چاہیے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طے شدہ فارمولے کے تحت ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی راولپنڈی سمیت کسی جگہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے مین امیدوار کھڑا نہیں کرے گی ۔ 18 فروری کے انتخابات بھی پوری طرح شفاف نہیں تھے تاہم نتائج بطور احتجاج اس لیے قبول کیے کہ ملک کو جمہوریت کی کی فوری ضرورت تھی ۔ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے مکمل حامی ہیں لیکن عجلت میں کوئی کام کرنے کی بجائے عدلیہ کی مستقل آزادی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں ۔ گندم کا بحران ان اندرونی سازشوں کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے بعض عناصر پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ آٹھ سال کے دوران راولپنڈی کی احتساب عدالتوں میں اپنے خلاف زیر سماعت ریفرنسز کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے اعزاز مین ایک تقریب کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ‘ پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر ‘ سینیٹر ڈاکٹر بابر اعوان بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران آصف زرداری مزاح سے بھرپور دلچسپ چٹکلے اور جملے بھی چست کرتے رہے ۔ آصف زرداری نے خوشگوار موڈ میںگپ شپ لگاتے ہوئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان یہ فارمولہ پہلے سے طے ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹ پر دوسری پارٹی کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی جس کی پابندی کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نواز شریف اور شہباز شریف کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی جبکہ راولپنڈی کے حلقہ این اے 55 سمیت دیگر حلقوں میں بھی مسلم لیگ کے مدمقابل کو ئی امیدوار کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے 18 فروری کے نتائج کے حوالہ سے کہا کہ یہ نتائج پوری طرح تسلی بخش نہیں اور نہ ہی میں یہ نتائج تسلیم کرتا ہوں ہم نے حالیہ انتخابات کے نتائج بطور احتجاج اس لیے قبول کیے کہ ملک کوجمہوریت کی فوری ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ میرے سمیت پوری پیپلزپارٹی ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی حامی ہے ا ور ہم ہر قیمت پر ججوں کو بحال اور عدلیہ کو آزاد کریں گے ۔ لیکن اس حوالے سے بعض لوگ عجلت میں جو نتائج چاہتے ہیں وہ آسان نہیں ہم سیاستدان ہیں اور سیاست میں ایسا راستہ تلاش کررہے ہیں جس سے عدلیہ کی آزادی ‘ جمہوریت کے استحکام ‘ معیشت کی مضبوط ملک وقوم کی ترقی کے ذریعے عوامی خواہشات پر عمل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے آئینی پیکج تقریبا تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور نواز شریف کی اسلام آباد آمد پر انہیں اس کے مندر جات سے تفصیلی آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ملک میں پیدا کردہ خوراک کا بحران مصنوعی ہے ۔ کیونکہ بعض عناصر ملک قوم کے خلاف اندرونی سازشوں میںملوث ہیں جس طرح چنگیز خان کوئی علاقہ یا قلع فتح کرنے سے پہلے اپنے ایجنٹ بھیج کر وہاں کی طاقت کو اندرونی طورپر کھوکھلا کرتا تھا اسی طرح آج پاکستان کو تورنے کے لیے بھی سازشیں ہو رہی ہیں ۔ اور اندرونی سازشیں باہر سے مسلط کردہ جنگ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گندم سمیت خوراک کے بحران پر قابو پانے کے لیے مشاورت جاری ہے جلد اس پر قابو پالیا جائے گا انہوں نے گندم کی افغانستان سمگلنگ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی گندم پالیسی میں ہمیشہ افغانستان کو شامل رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا انحصار ہی پاکستان پر ہے ۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اب تک ملک وقوم کو پانچ بھٹو دے چکے ہین انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے جس کے لیے پنجاب ‘ بلوچستان اور سندھ مین ان کی حفاظت کے لیے الگ الگ گاڑیاں اور سخت سیکورٹی پلان تھا لیکن ہم نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ بی بی کے ساتھ پنجاب میں اتنا بڑا سانحہ پیش آئے گا ہمارا خیال تھا کہ وہ یہاں محفوظ ہیں اور یہاں انہیں کچھ نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ جیلوں کے نظام میں اصلاحات کے لیے صوبوں کوہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ جبکہ صدارتی ترجمان راشد قریشی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی قسم کے آئینی پیکج کو ایوان صدر میں پیش کرنے کی تردید کرتے ہوئے اس خبر کو بالکل بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ نہ کوئی آئینی پیکج ایوان صدر میں پیش کیاگیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں ایوان صدر کے پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی رابطے ہیں یہ بالکل لا شعوری بات ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدارتی ترجمان نے کہاکہ اس بارے میں خبریں اور تبصرے بالکل غلط ہیں میں نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایوان صدر کی آئینی پیکج پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی سے کوئی رابطہ ہے جبکہ پاکستان بار کونسل نے عدلیہ کی بحالی کے لئے ہونے والے لانگ مارچ اور وکلاء کنونشن کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے عملدرآمد کمیٹی کے قیام اور اس کے عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے ، لانگ مارچ کا نام”جسٹس افتخارمارچ“رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وکلاء رہنماو¿ں نے جنرل باڈی اجلاسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر او کے خاتمے کے خوف سے ججوں کو بحال نہیں کیا جارہا،لیکن وکلاء اپنی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم بہت کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری منیر الرحمن نے کہا ہے کہ وکلاء تحریک ضرور کامیاب ہوگی‘ وکلاء اتحاد کا مظاہرہ کریں ورنہ 9 مارچ‘ 12 مئی‘ 9 اپریل اور 3 نومبر جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ جنرل باڈی سے شعاع النبی‘ غفار کاکڑ نے بھی خطاب کیا۔ سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف لینا غیر آئینی ہے‘ عوام کا حکمرانوں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔تفصیلات کے مطابق عملدرآمد کمیٹی کے عہدیداروں میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین حاجی سیدالرحمن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن کو عملدرآمد کمیٹی کا معاون کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ارکان میں حاجی سیدالرحمن، چوہدری اعتزازاحسن، رشید اے رضوی، حامد خان، امداد اعوان، علی احمد کرد، چوہدری امین جاوید تمام صوبائی بار کونسلوں کے وائس چیئرمین، تمام ہائی کورٹس بار ایسوسی ایشنوں کے صدر اور لاہور کراچی پشاور اور کوئٹہ بار ایسوسی ایشنوں کے صدر شامل ہیں۔ عملدرآمد کمیٹی کو لاہور میں ہونے والے آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کی قرارداد کی روشنی میں حتمی شکل دی گئی ہے۔ عملدرآمد کمیٹی لانگ مارچ کے روٹس کا تعین کریگی اور وکلائ کنونشن سمیت دیگر تمام معاملات کو بھی حتمی شکل دے گی تاکہ 10 جون سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جاسکے۔ حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کیلئے اجلاس صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سردار عصمت اللہ خان کی زیرصدارت ہوا جس میں کراچی بار کے جنرل سیکرٹری نعیم قریشی نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ اجلاس میں صحافیوں کو بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا نہ ہی اجلاس میں موجود ڈویڑنل نمائندوں کی فہرست جاری کی گئی۔ اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں سردار عصمت اللہ خان نے کہا کہ 10 جون کو جو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اس کا نام چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مارچ رکھا گیا ہے۔ 24 مئی کو فیصل آباد میں وکلاء کنونشن میں شرکت کیلئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو وکلاء جلوس کی شکل میں صبح 7 بجے ان کی رہائش گاہ سے لے کر بذریعہ موٹر وے فیصل آباد جائیں گے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، طلبہ، تاجر برادری، مزدوروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 24 مئی کے کاروان میں شرکت کریں کیونکہ ججز کو فنکشنل کرنے کی تحریک اب ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ہمیں کسی سے گلہ نہیں ہماری جنگ جاری رہے گی۔ کراچی بار کے سیکرٹری جنرل نعیم قریشی نے کہا کہ 19 اپریل کو کراچی میں بار اور وکلاء کو جلایا گیا لیکن اس پر راولپنڈی میں جو ردعمل تھا اس نے ہمارا حوصلہ بلند کیا ۔ این آر او کی تلوار معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے ججز کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔ جبکہ وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کیلئے اتحادی حکومت پر کوئی دباو¿ نہیں ہے اور نہ ایسا کچھ قبول کیا جائے گا، عوام کو مایوس نہیں کرینگے،انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ حل کرنے کے لئے طریقہ طے کرنا ہے ،کیو نکہ کرسی ایک ہے اور چیف جسٹس دو ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا اسے دہرایا نہیں جا سکتا، ن لیگ کے وزراء جلد کابینہ میں شامل ہو جائیں گے، دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے تیار کی گئی 3نکاتی حکمت عملی کو امریکا نے سراہا ہے ۔ اس بارے میں میرے ذہن میں کوئی شبہ نہیں، نواز شریف کے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے اور کسی سیاسی جماعت کے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان معزول ججوں کو جلد از جلد بحال کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ یہ وسیع البنیاد ہے اور اس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماہرین طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں اور جلد سفارشات پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا اور اسے دہرایا نہیں جا سکتا۔ گزشتہ دنوں انھوں نے بین الاقوامی فورم پر اس کمٹمنٹ کا اظہاربھی کیاکہ تمام معزول جج صاحبان کو بحال کیا جائے گا۔ جب ان سے طریقہ ہائے کار کے بارے میں استفسار کیا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ ایک موجودہ چیف جسٹس ہے اور ایک دوسرا چیف جسٹس ہے، جسے بحال کرنا ہے، ہمیں ایک چیف جسٹس رکھنا ہے اور آئینی ماہرین اس بارے میں طریقہ کار وضع کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی طرف سے دیئے گئے استعفوں کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے بعد بہت جلد کابینہ میں دوبارہ شامل ہو جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ججوں کی بحالی کیلئے لوگوں کو کب تک انتظار کرنا ہو گا تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے عوام بہت بالغ النظر، ذہین اور متحمل مزاج ہیں۔ وہ حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے صدر بش کو بتایا کہ انتہا پسندی و دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کیلئے تین نکاتی حکمت عملی کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے ساتھ سیاسی بات چیت شامل ہے جو عسکریت پسند نہیں ہیں یا جو ہتھیار ڈال کر دہشت گردی کے انسداد میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کا معیار زندگی بلند کرنے، مواصلات کو بہتر بنانے، روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے فاٹا میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنے کی بھی خواہاں ہے اور آخری چارہ کار کے طور پر اس معاملہ سے نمٹنے کیلئے وہاں فورس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی امریکہ کو قابل قبول ہے اور انہوں نے ہماری کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ہماری سرزمین پر 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین ہیں، عالمی غذائی سیکورٹی کا خطرہ بھی ہمارے اوپر منڈلا رہا ہے، ہمیں نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں بلکہ افغانستان کی بھی اور گندم وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اسمگل کی جا رہی ہے۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان کی تعمیرنو کیلئے 30 کروڑ ڈالر کی معاونت دے رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ پاک۔بھارت تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ شاندار تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان بھارت سے اچھی توقعات رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب بنیادی مسائل کو حل کرنا ہو گا، کشمیر کے عوام اپنا حق خود ارادیت چاہتے ہیں۔ مسلم ممالک کے درمیان تعاون کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ شرم الشیخ میں مسلم رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقاتوں میں انہوں نے بہت اچھی بات چیت کی ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی، زراعت، دفاع اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے بارے میں تجربات کا تبادلہ کیا۔ وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی سے سیاسی حمایت کو تقویت دینے اور ملک و قوم کیلئے وسیع تر اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی، ہم تیز تر اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ وکلاء نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیان کہ ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں نیا چیف جسٹس نہیں لایا جاسکتا ،پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے انکا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات سے پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا گراف مزید گررہاہے اور پارٹی عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئی ہے ریٹائرڈ جسٹس وجہیہ الدین احمد نے کہا کہ 3نومبر 2007کو جسٹس افتخار چوہدری کی موجودگی میں نیا چیف جسٹس لایاگیا اور پیپلز پارٹی مشرف کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتی رہی ہے اور یہ واضح نہیں کہ وزیر اعظم 3نومبر کے اقدامات کا حوالہ دے رہے تھے یا کسی اور صورتحال کا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے سے اب تک کسی بھی ایشو پر نتائج دینے میں ناکام رہی ہے اور وزیر اعظم کا بیان مری اعلامیہ کے خلاف ہے۔ چاہے ججوں کا معاملہ ہو یا اقتصادی بحران ، سکیورٹی مسائل ہوں یا سیاسی معاملات، پیپلزپارٹی نے عوام کو مایوس کیا ہے پارٹی نے ایک بھی ایشو پر نتائج نہیں دیئے وکلاء رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ جب پیپلز پارٹی کے ترجمانوں سے اس سلسلے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے انہوں نے مزید کہا پیپلز پارٹی کو موجودہ مسائل حل کرنے ہونگے ورنہ اسکی مقبولیت مزید گرے گی“ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی پیکیج تیار کررہی ہے جس سے چاروں مستفید ہوں،پرویز مشرف ، آصف زرداری، پی سی او ججوں کو فائدہ ہو اور کچھ عوامی مطالبات بھی تسلیم ہو جائیں انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ اگر ہر ایک کو” خوش“ کرنے کی کوشش کی گئی تو سب کچھ ضائع ہو جائیگا ۔جسٹس وجہیہ الدین نے کہا کہ ”وکلاء تحریک عدلیہ کی آزادی کیلئے شروع ہوئی تھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زرداری یا وزیر اعظم کیا کہتے ہیں ۔جسٹس (ر) طارق محمود نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کو واضح اعلان کرنا چاہئے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے درمیانی راستہ اختیار کرکے معزول عدلیہ کی بحالی پر پوری قوم کو ابہام کا شکار کیا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ 3نومبر کو ایک چیف جسٹس کی موجودگی میں گن پوائنٹ پر دوسرا لایا گیا مگر وکلاء یہ معاملہ اٹھاتے رہے ہیں کہ کسی جج کی تعیناتی صرف خالی سیٹ پر ہی کی جاسکتی ہے موجود ججوں کی جگہ پر نہیں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اپنی مرضی سے ایسا بیان نہیں دے سکتے ہیں یہیں سے ”کسی“ نے انکو ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی قرار داد کے ذریعے ججوں کی بحالی پر واضح نہیں ہے مگر تنخواہوں کی ادائیگیوں کے حکم سے وہ انہیں سپریم کورٹ کا جج تسلیم کرتے ہیں وکیل نے کہا کہ اگر 2نومبر کے مطابق معزول ججوں کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں تو پیپلز پارٹی جسٹس افتخار چوہدری کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان کے خود بخود تسلیم کرتی ہے لیکن انکا وزیر اعظم اصل صورتحال کے برعکس بیان دے رہا ہے ۔سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کے قریبی معاون اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے منتخب وزیر اعظم نے ایسا بیان جاری کیا جس سے ایک آمر کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیان بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں اور انکے فلسفے سے انحراف ہے جنہوں نے ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے اپنی زندگیاں قربان کیں یہ خوفناک بات ہے کہ ایسی پارٹی کا منتخب وزیراعظم مشرف کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرنیوالے بیانات دے رہا ہے ۔اس طرح ملک کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ۔اطہر من اللہ نے کہا ”کسی سپریم کورٹ نے کبھی پی سی او کو معطل نہیں کیا “لیکن اس پی سی او کو سپریم کورٹ کے 7رکنی بنچ نے معطل کیا انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کا بیان میثاق جمہوریت کی بھی واضح نفی ہے ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ہٹنے تک خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ جب تک پرویز مشرف منظر سے نہیں ہٹتے پاکستان میں خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ جبکہ وفاقی سیکرٹری برائے انفارمیشن اور براڈ کاسٹنگ محمد اکرم شہیدی نے کہا ہے کہ نئے انفارمیشن ایکٹ میں صحافیوں کو اطلاعات تک بروقت رسائی دینے ، احتساب کا عمل یقینی بنانے میں مدددینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے میڈیا کی تمام ضروریات کا احاطہ کیاجائیگا،شہید ی نے اس موقع پر مزید کہا کہ سی پی این ای، اے پی این ایس اور پی ایف یوجے سمیت تمام فریقین کے ایک اور اجلاس 25 تا26 مئی تک ہوگا جس میں اس پر غور کیاجائیگا جس کے بعد یہ بل منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کر دیاجائیگا۔سیکر ٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت ایک آزاد فضاپیدا کرنے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے اور اس حقیقت کا ایک مظہر یہ ہے کہ اب تمام ٹی وی چینلز کے اینکرز مختلف معاملات پر آزادانہ بحث کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک میں60 کے قریب ٹی وی چینلزکام کر رہے ہیں اور میڈیا سے وابستہ اداروں کو ذمہ داری اور بالغ نظر صحافت کا مظاہرہ کرنا چاہئے، انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور وزارت اطلاعات ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور اس طرح میڈیاکی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت میڈیاکو دبانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کریگی ۔ جبکہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول تک صدر پرویز مشرف کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ(ن) لیگ کو پیپلزپارٹی سے دور کرکے پی پی پی (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے اور اس میں وہ کافی کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں مرزا اسلم بیگ نے کہا ک ہے ہ جب ذاتی مفادات قومی مفادات پر مقدم ہو جائیں تو کمزور فیصلے ہوتے ہیں این آراو کے تحت جو آصف زرداری کو مفادات حاصل ہوئے ہیں مقدمات ختم ہوئے ہیں اور ایم کیو ایم کے خلاف قتل سمیت 2800 مقدمات تھے سب ختم ہو گئے جب اتنا بڑا احسان مندی کا بوجھ ہو تو پھر ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آجاتے ہیں اور جب تک یہ غالب رہیں گے یہ لوگ دب کر بات کرتے رہیں گے مگر ایسا کوئی دباو¿ نواز شریف اور اے پی ڈی ایم پر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس ٹکراو¿ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں جو آج پیدا ہوا ہے اگر یہاں مضبوط قومی حکومت قائم ہوئی تو وہ کشمیر کے مسئلے کو پس پشت نہیں ڈال سکتی بلکہ طاقت کے زور پر ان معاملات کو حل کرنے کی پوزیشن میں ہو گی۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبانائزیشن ناکام اور ناقص خارجہ پالیسی کارد عمل ہے۔ پرویز مشرف صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے وطن عزیز کے محب وطن اور معصوم شہریوں کو اپنی انا اور نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی حملوں اور دیگر دھماکوں میں معصوم شہری اور پاکستانی فوجی ہی مارے جارہے ہیں لیکن حکومت سچ چھپا رہی ہے ۔ عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج قبائلی علاقو ںمیں ستر ملین ماہانہ لے کر امریکا کی خدمت کررہی ہے اور اس کے کرائے کے گوریلوں کاکردار ادا کر رہے ہیں ۔ طالبانائزیشن کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان اور پاکستانی فوج قبائلی علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں اور سنگین مسئلہ کا حل مذاکرات سے ہی نکالا جائے بصورت دیگر وطن عزیز پر طالبانائزیشن اور دہشت گردی جیسا عذاب مسلط ہی رہے گا۔ ملکی موجودہ صورتحال سے ثابت ہو گیا کہ اے پی ڈی ایم کے الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ درست تھا ۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کے الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر نیگرو پونٹے اور باو¿چر کی پارٹی قیادت سے ملاقاتوں اور امریکی مداخلت پر پیپلز پارٹی الیکشن لڑنے پر مجبور ہوئی تھی لیکن اس وقت ساری سیاسی جماعتیں اے پی ڈی ایم کی کال پر الیکشن کا بائیکاٹ کرتیں تو آج یہ کھچڑی نہ پکتی اور ججز اور عدلیہ کی بحالی کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ۔ عمران خان نے کہا کہ ملک پر مسلط چور ڈاکو قومی لٹیرے اور الطاف حسین جیسے دہشت گرد معزول ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اسی لیے اب آئینی پیکج کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ہاتھ باندھنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں لیکن وکلاء سیاستدانوں سمیت پوری پاکستانی قوم چیف جسٹس کی پشت پر ہے اور معزول ججز سمیت عدلیہ کی بحالی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے ملک بھر کے وکلاء کی جرات اور تحریک کو سلام پیش کیا کہ شریف الدین پیرزادہ سمیت کئی ایک میر جعفر اور میر صادق ان کی صفوں میں گھسے ہوئے ہیں مگر وکلاء نے ان کی سازشیں ناکام بنا کر ملک کو لیڈر شپ دی ۔عمران خان نے کہاکہ یہ کہاں کا قانون و انصاف ہے کہ مفاہمتی آرڈیننس کے تحت آصف زرداری اور سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت تھوک کے حساب سے کرپشن کیسز والوں کے مقدمات ختم کر کے انہیں این آر او کی گنگا سے نہلا کر پاک صاف کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دور میں 55 ارب سے زائد رقم کے قرضے لے کر معاف کروائے گئے ایک غریب معمولی جرم اور معمولی قرضے کی پاداش میں سالوں جیلوں میں سڑتا رہتا ہے لیکن پرویز مشرف نے اربوں روپے لوٹنے والوں اور کتنے ہی معصوم بے گناہ شہریوں کے قاتلوں کو تحفظ فراہم کر کے انہیں ہر قسم کے احتساب سے بچا لیا ہے ۔عمران خان نے بتایا کہ پرویز مشرف نے آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف دائر کیسز کے سلسلے میں صرف ایک وکیل کو بارہ کروڑ روپے دئیے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی لٹیروں کے خلاف قائم کیسز کے لیے کروڑوں روپے کا کس قدر بے دریغ استعمال کر کے اور خزانہ خالی کر کے ان قومی مجرموں کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کر دیاگیا اس کا احتساب ضروری ہے جبکہ صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں ان کا سیاسی کردار ہے لہذا وہ استعفیٰ نہیں دیں گے آئینی طورپر منتخب صدر ہوں پانچ سالہ مدت پوری کروں گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور حامد ناصر چٹھہ سے ملاقات کے دوران کیا ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ججز کی بحالی اور صدر ، وزیراعظم کے درمیان اختیارات میں توازن قائم کرنے اور سیکیورٹی کونسل کے خاتمے سے متعلق آئینی پیکج اور حالیہ ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ یہ ملاقات صدر پرویز مشرف کی خواہش پر ہوئی ہے جس میں (ق) لیگ کی طرف سے معزول ججز کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر صدر پرویز مشرف نے عدم اطمینان اور ناخوشی کا اظہار کیا ہے کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات کے خلاف( ق) لیگ بھی میدان میں آ گئی ہے صدر مشرف نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی او ر(ن) لیگ سے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات کو آئینی تحفظ دے دیا جائے تو وہ اپنے عہدے سے اس سال کے آخر تک مستعفی ہو جائیں گے یہ ایک گلے شکوے کی ملاقات تھی جس میں چوہدری شجاعت حسین نے ان کوششوں اور سازشوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے انہیں ہٹانے کیلئے کوشش کی گئیں اور اس میں کچھ سرکاری ادارے بھی شامل تھے پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے تیار کئے جانے والے آئینی پیکیج کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت سروسز چیفس اور صوبائی گورنرز سمیت اہم ترین عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعظم ہو کو ہو گا چیف جسٹس کے عہدے کی میعاد تین سال مقرر کر دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے مجوزہ آئینی پیکیج کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں اس مجوزہ آئینی پیکیج کے تحت آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو بی ختم اور سروسز چیفس سمیت دیگر اہم ترین عہدوں پر تقرری کا اختیار وزیراعظم کو منتقل کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی پیکیج میں صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لے لیا جائے گا۔ آرمی چیف سمیت مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو ہو گا جبکہ صوبوں کے گورنروں، چیف الیکشن کمشنر اور اٹارنی جنرل کی تقرری بھی وزیراعظم کریں گے۔ عدلیہ کے حوالے سے آئینی پیکیج میں چیف جسٹس کی میعاد عہدہ تین سال مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی مدت ملازمت تین سال بڑھائی جائے گی۔صدارتی ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بتایا کہ آئینی پیکیج کی منظوری پارلیمنٹ کا اختیار ہے تاہم ججوں کی بحالی اور صدر وزیراعظم کے درمیان اختیارات کے توازن کے حوالے سے آئینی پیکیج کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو آئینی پیکیج کا کوئی مسودہ ایوان صدر آیا اور نہ ہی یہاں سے کوئی بھیجا گیا ہے ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج پر مشاورت کے لئے صدر پرویز مشرف سے چوہدری شجاعت، حامد ناصر چٹھہ، رضا حیات ہراج اور ماروی میمن نے ملاقات کی ہے۔جبکہ حکومت پاکستان نے واضح کیاہے کہ دہشت گردوں سے امن معاہدہ ہوا ہے او رنہ ہی ان سے بات چیت کی جائے گی اسلام آباد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ فاٹا کو پر امن علاقہ بنانے کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی گئی ہے آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نجی شعبے کو گندم کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے تمام سرکاری محکموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واپڈا کے واجبات ایک ماہ کے اندر ادا کر دیں اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر شیریں رحمن نے میڈیا کو بریفنگ دی اورکہاکہ اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہے کہ کسی دہشت گرد سے بات چیت نہیں ہو گی اور فاٹا کو پر امن علاقہ بنانے کیلئے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ایسے لوگ رہا نہیں ہوں گے جو اسلحہ رکھتے ہوں اور زور و جبر سے عزائم منوانا چاہتے ہوں جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی میں کمی لائی گئی ہے تاکہ وہاں کے پرامن علاقائی لوگ واپس اپنے گھروں کو جا سکیں مگر اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پا رہا ہے شیریں رحمان نے کہا کہ فوج نے اپنی کوئی بٹالین وہاں سے کم نہیں کی ہے بلکہ وہ سویلین کی مدد کے اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت ان لوگوں کو معاوضہ دے گی جن کے گھر یا جائیداد کو نقصان پہنچا ہے حکومت وہاں کے متعلقہ لوگوں کے ساتھ امن کے قیام کیلئے مل کر کام کرے گی اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ گندم کی برآمد پر پابندی جاری رہے گی تاکہ صارفین تک وافر مقدار میں گندم کی رسائی ہو پاسکو کو کہا گیا ہے کہ وہ بلوچستان اور سرحد کے لئے مقرر کردہ گندم کا ہدف پورا کرے کیونکہ وہاں گندم کی سب سے زیادہ کمی ہے یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو گندم کی درآمد کی اجازت دے گی اور اس پر دس فیصد ڈیوٹی وہ بھی ہٹا دی گئی ہے گندم کی سرکاری خریداری کا ہدف پچاس لاکھ ٹن مقرر کیاگیاہے جبکہ گندم کی برآمد پر پابندی برقرار رہے گی آٹے کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے مخصوص سطح پر گندم کا ذخیرہ سال بھر برقرار رکھا جائے گا آئینی پیکج کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شیری رحمان نے بتایا کہ تمام فیصلے قومی امنگوں کے مطابق کئے جائیں گے اگر کسی فیصلے پر کسی جانب سے کوئی احتجاج ہوتا ہے تو یہ عوام کا جمہوری حق ہے کابینہ کم از کم اجرت 6 ہزار مقرر کرنے کے فیصلے پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ قانون میں تبدیلی اور اسے بچت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا قومی مفاہمت کی پالیسی کے تحت کابینہ نے جہیز کی حد مقرر کرنے کا سرکاری بل واپس لینے کا فیصلہ کیاہے سینٹ میں مسلم لیگ (ق) کے انور بھنڈر کا نجی بل پہلے ہی متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے بل کے تحت جہیز کی حد 30 ہزار روپے جبکہ تحائف کی حد 50 ہزارروپے مقرر کی گئی ہے وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران چین میں زلزلے کی وجہ سے اموات اور لا پتہ افراد کی تعداد 70ہزار سے بھی تجاوز کرنے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ نقصان کے پیش نظر ہم امدادی سامان میں جائزہ لے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ چین ہمارا عظیم دوست ہے اور شرم الشیخ میں انہیں حکومت چین کی جانب سے درخواست کی گئی کہ متاثرین کیلئے خیموں کی اشد ضرورت ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے فوری طور پر چار۔130طیاروں اور 30ٹرکوں کے ذریعے خیمے اور دوسرا امدادی سامان چین روانہ کیاگیا چین میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی پاکستان میں 2005ء کے زلزلے کے بعد چین نے امدادی اشیاء کے علاوہ 3کروڑ ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کی تھی۔ تحریر : اے پی ایس اسلام آباد

Saturday, May 10, 2008

امریکہ کا ججز کی بحالی کے ایشو پر پاکستان کے حکمران اتحاد سے بات چیت کا فیصلہ



اسلام آباد۔ پاکستان میں ججز کی بحالی کے ایشو میں امریکہ کی براہ راست مداخلت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے لندن پہنچ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس معاملے پر امریکی ایما پر نواز شریف پر اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے ججز کی بحالی کے معاملے پر امریکی دباؤ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین سے ججز کی بحالی کے ایشو پر بات چیت کے لیے اتوار کو لندن پہنچ رہے ہیں ۔ اسی ملاقات کے پیش نظر نواز شریف نے لندن میں اپنے قیام میں ایک دن کی توسیع کی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ججز کی بحالی کے معاملے پر نواز شریف نے کسی صورت اپنے موقف پر سمجھوتہ اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف نے متبادل حکمت عملی طے کر لی ہے جس کا اعلان کل( پیر کو) اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائے گا سعودی عرب کے اعلی حکام کی جانب سے بھی امریکی ایما پر نواز شریف کو اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ججز کی بحالی کے ایشو پر کمزوری نہ دکھانے اور بیرونی دباؤ قبول کرنے کا دو ٹوک فیصلہ کر لیا ہے ۔ پاکستان کے اس اہم قومی ایشو کے حوالے سے امریکہ کی براہ راست مداخلت پر سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔

Monday, April 28, 2008

ججز کی بحالی میں تاخیر۔۔۔۔۔ عوام کے شدید تحفظات تحریر چودھری احسن پریمی



پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز تیس اپریل تک ججوں کو بحال کرنے کے پابند ہیں تیس اپریل تک تمام معزول ججوں کی بحالی کا وعدہ ہر صورت پورا کیاجائے ۔حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں نے اس سلسلے میں اعلان مری پر دستخط کئے ہوئے ہیں اور آصف علی زرداری اور نواز شریف دونوں اس پر عمل کریں ۔ججوں کی بحالی کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے ججوں کو فرد واحد پی سی او کے تحت اتار کر گھرو ںمیں نظر بند کر دیتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے اور پھر ان ججو ںکو بحا ل کرنے کیلئے اتنا بڑا پہاڑ عبور کرنا پڑے گا غیر قانونی اقدام کو قانونی بنانے کیلئے اتنی مشکلات اٹھانا کہاں کا قانون ہے ایسا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قوم نے آمریت کے خاتمے اور عدلیہ کی بحالی کا مینڈیٹ دیا ہے اور وہ اس سے انحراف ناممکن ہے۔ 18فروری کو قوم کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ پر قائم رہنا ہوگا۔عوام اس میں کوئی ہیرا پھیری نہیں کرنے دیں گے ۔ ججوں کی بحالی کی قرارداد اور آئینی پیکج دو الگ الگ معاملات ہیں ۔ یہ قرار داد ایسے ہی جائے گی جج بحال ہوں گے اور اس کے بعد چارٹر آف ڈیمو کریٹک پر مبنی ترامیم آئیں گی ۔ نئی حکومت کے کرتا دھرتا چارٹر آف ڈیمو کریٹک پر عمل کرنے کے پابند ہیں ۔ جبکہ نواز شریف یہ بھی چاہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہونی چاہیے اور یہ موزوں وقت ہے ۔ اگرحکومت نے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے تو اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ عوام اس تاخیر کو اچھی نظرسے نہیں دیکھتے ۔ میاں نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ حکمران اتحاد برقرار رہے جب تک ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی نہ ملک کے مسائل حل ہو نگے نہ ہی امن قائم ہوگا آج دنیا بھر میں قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی بات ہورہی ہے اگر ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی تو سر مایہ کار بھی بلا خوف و خطر پاکستان میں سر مایہ کاری کرینگے کوئی بھی معاشرہ کفر کی حالت میں قائم تو رہ سکتا ہے لیکن ظلم کی صورت میں قائم نہیں رہ سکتا ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے وکلاء کی جدو جہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے عوام نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ یہ وکلاء کی جد و جہد ضرور کامیاب ہوگی اور قوم آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا خواب جلد شر مندہ تعبیر ہوگا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججزکی دوبارہ بحا لی ناگزیر ہے عدلیہ بحال ہو اور عدلیہ کو آزاد عدلیہ بنایا جائے ۔ اگر نئی حکومت بھی عوام کے مسائل حل نہ کر سکی تو اس کا بھی اقتدار میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جمہوری قوتوں کی کامیابی سے ہی ملک میں جمہوریت کو فروغ ملے گا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) نے کہا ہے کہ صدر نے ججز کو برطرف کرکے غلط کیا تھا اگر موجودہ حکومت عدلیہ کا بحران حل نہ کر سکی تو ہم قوم کو اس بحران سے نجات دلانے کیلئے قرارداد لائینگے ۔ ججز کی بحالی آئینی اور قانونی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بن چکا ہے ‘ نواز شریف بھی اسی پر سیاست چمکا رہے ہیں وہ حکومت سے الگ نہیں ہونگے ۔ ملک میں نہ پہلے جمہوریت تھی نہ اب ہے جب تک حقیقی جمہوریت نہیں آتی 58ٹو بی کا اختیار صدر کے پاس رہنا چاہیے ۔اس کے خاتمے کی قرارداد آئی تو اس بارے میں سوچیں گے۔ حکومت نے ابھی تک ججز کی بحالی ‘ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو صدر بنانے ‘دس سالہ قیمتیں واپس لانے سمیت کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ‘اب حکومت قو م سے معذرت کرے، جتنی مہنگائی ایک ماہ میں ہوئی ہے اتنی سابقہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں بھی نہیں ہوئی اس ایک ماہ کے دوران پانچ ارب روپے کا منافع کس نے کمایاجلد قوم کو آگاہ کیا جائیگا ۔ اگر بلوچستان کے مسئلے پر ہمارے دور میں بنائی گئی کمیٹی کی 37سفارشات پر مکمل عملدرآمد کر لیا جاتا تو شاید اکبر بگٹی کی ہلاکت نہ ہوتی ۔ چیف جسٹس اور دیگر ججز کو جس طرح نکالا گیا اور اب جس طرح حکومت نے سیکرٹری خارجہ امور ریاض احمد خان کو نکالا ہے دونوں طریقے غلط ہیں ۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے کہا تھا کہ ہم ایک ماہ میں ججز کو بحال کر دیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا جسکی وجہ سے قوم پریشان ہے اور ہم اسے مزید پریشان نہیں دیکھنا چاہتے ‘ اگر حکمرانوں نے ججز بحال نہ کئے تو ہم قرارداد لا کر قوم کو اس بحران سے نجات دلائینگے اور اسکا طریق کار جلد طے کر لینگے ۔ ا ہماری خواہش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور اگر نواز شریف نے حکمران اتحاد کو چھوڑ دیا تو حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا گورنر اسٹیٹ بینک نے معیشت کے متعلق جو بیان دیا ہے وہ حکومتی دباو¿ کا حصہ ہے ‘صورتحال اسکے برعکس ہے ‘ پاکستان کی معیشت مضبوط ہے ۔ جن ممالک میں مکمل جمہوریت ہوتی ہے وہاں پر 58ٹو بی کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن پاکستان میں مکمل جمہوریت نہیں اس لئے یہ اختیار صدر کے پاس رہنا چاہیے ہم اسکے حق میں ہیں ۔ جبکہ مشاہد حسین نے کہا ہے کہ حکمران اتحاد نے وعدے کئے تھے کہ ڈاکٹر عبد القدیر کو صدر بنائینگے ‘ قیمتیں کم کریں گے اور ججز کو بحال کیا جائے گا لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا اور اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو قوم سے معذرت کر لے اور بتائے کہ انہیں حکومت میں آ کر پتہ چلا ہے کہ یہ سب کچھ ممکن نہیں ۔ سیکرٹری خارجہ ریاض احمد کو صرف اس وجہ سے نکالا گیا ہے کیونکہ انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کی تھی کیونکہ یہ تحقیقات پاکستان کے مفاد میں نہیں اور اس سے بیرونی مداخلت کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا جو خطرناک ہو سکتا ہے ۔ ہم نے قومی اسمبلی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کی حمایت اس لئے کی تھی کیونکہ بینظیر بھٹو کے قتل میں اپوزیشن لیڈر کا نام لیا جارہا تھا اوراسی وجہ سے ہم نے اسکی حمایت کی ۔ پاکستان ڈیفالٹر ہونے کی طرف نہیں جارہا اور ہمیں امید ہے کہ وزیر خزانہ قوم کو اصل حقائق بتائینگے لیکن اب معیشت کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہے ن لیگ والے پرویز مشرف کے ساتھ کھانے بھی کھاتے ہیں ‘ موسیقی بھی سنتے ہیں اور جب اتنا کچھ کرتے ہیں تو انہیں بیرونی ممالک کے دوروں پر بھی جانا چاہیے ملکی مسائل کا حل ڈنڈا یا آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات ہیں اور ہماری حکومت نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے سفارشات بھی تیار کی تھیں لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا‘ اب موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نئی کمیٹی کی سفارشات کیساتھ ہماری سفارشات پر بھی عمل کرے کیونکہ یہ ملک میں مفا د ہوگا ۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ ججز کی بحالی کو آئینی و قانونی نہیں سمجھتے ہم ججز کی بحالی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ اس بحران کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہئے اور اگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا تو اس بحران کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔مشاہد حسین نے کہا کہ (ن) لیگ درحقیقت ایک علاقائی جماعت ہے جس کا ملک بھر میں کوئی وجود نہ ہے اور اس وقت (ن) لیگ حکمران اتحاد سے علیحدہ ہونے کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے کہا کہ اس ملک میں نہ تو پہلے جمہوریت ٹھیک تھی اور نہ ہی اب ٹھیک ہے ۔ انہوں نے کہا ہمارے دور میں کوئی بحران پیدا نہ ہوا اور ہم نے مہنگائی پر مکمل کنٹرول رکھا لیکن موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد صرف ایک ماہ میں اتنی مہنگائی بڑھی جتنی گذشتہ پانچ سالوں میں بھی نہ بڑھی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والا وقت عوام کے لئے کسی بڑے عذاب سے کم نہ ہوگا۔ موجودہ حکومت کو غلط بیانی کے علاوہ کوئی کام نہیں اور غلط اعدادوشمار پیش کئے جا رہے ہیں‘ایک دن آئے گا جب ورلڈ بینک کے نمائندے یہاں آکر کہیں گے کہ جو اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں وہ غلط ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی طرف سے انصاف کی فراہمی کے لئے سوموٹو کے تحت اپنے خلاف ایکشن لینے پر ملک کی ”مقدس گائیں“ نئے سیاسی حکمرانوں کو اس بات پر قائل کر چکی ہیں کہ ان کے طاقتور اور ظالموں کو عدالتوں میں بلانے کے اختیارات ختم کردیئے جائیں متعدد بڑی پیشکشوں اور کوششوں کے باوجود معزول چیف جسٹس کا اس عزم پر قائم رہنا کہ وہ کرپشن اور احتساب کے اہم معاملات کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے کے خلاف کارروائی کریں گے، کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور جنرل (ر) پرویزمشرف مزید پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ معزول چیف جسٹس پارلیمینٹ کے اندر اور باہر بیٹھی ”مقدس گائیں“کو ہاتھ نہ لگائیں قانونی ماہرین کے مطابق معزول چیف جسٹس کو جون 2005 میں عدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس مقرر کئے جانے کے بعد سے سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ آصف علی زرداری اور جنرل (ر) پرویزمشرف کیوں ان سے خوفزدہ ہیں اور ان کی مدت ملازمت مختصر کرنے اور اختیارات ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں تاکہ اگر وہ بحال ہوں تو غیرفعال چیف جسٹس ہوں۔ قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری نے عام لوگوں کے بنیادی مسائل پر سوموٹو نوٹسز لئے اور ایسے مقدمات کی سماعت کے دوران بار بار اعلیٰ بیوروکریسی کو یاد کرایا کہ وہ بدعنوانی چھوڑ دیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہیں۔ جسٹس افتخار کے طاقتور اسٹبلشمنٹ کے خلاف اسی رویئے کی وجہ سے انہیں بنیادی طور پر دو بار معطل کیا گیا ان قانونی دماغوں کے مطابق شوکت عزیز حکومت ”بگ باس“ جنرل (ر) پرویزمشرف کے اہل خانہ اور دوستوں کو نوازنے اختیارات منتقل کرنے اور سہولتیں دینے کے لئے کام کررہی تھی اس کی ایک بڑی مثال معمولی قیمت پر صدر کے رشتے داروں اور دوستوں کو معمولی قیمت پر سٹیل ملز کی نجکاری ہے سٹیل ملز اور دیگر اہم قومی اثاثوں کے خریداروں میں صدر پرویز کے علاوہ موجودہ حکمرانوں کے رشتے دار اور دوست بھی شامل ہیں ان قانونی ماہرین کے مطابق یہی حقیقت جسٹس افتخار چودھری اور قوم کے لئے بدقسمتی ثابت ہوئی اور پیپلزپارٹی کے معزول چیف جسٹس کی مدت ملازم مختصر کرنے اور سوموٹو اختیارات ختم کرنے کے بارے میں سخت موقف کی وجہ بنا۔ معزول چیف جسٹس کے دور میں سپریم کورٹ نے نہ صرف عام آدمی کے بنیادی مسائل سے براہ راست تعلق رکھنے والے ایشوز پر ازخود نوٹسز لئے بلکہ ہر قسم کا دباو¿ مسترد کرکے غیرجانبدارانہ تاریخی فیصلے کئے اور اسی باعث آمریت کے غصے کو دعوت دی جسٹس افتخار محد چودھری کی طرف سے ازخود نوٹس لئے جانے والے چند مقدمات کی تفصیل درج ذیل ہے اور جو آصف علی زرداری کو معزول چیف جسٹس کے ازخود نوٹس لینے کے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پتنگ بازی کی وجہ سے لاہور سمیت مختلف شہروں میں مسلسل انسانی اور مالی نقصان کی وجہ سے ازخود نوٹس لیا۔ پتنگ بازی کی تقاریب میں پرویزمشرف بھی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے اور پتنگ اڑانے بنانے اور اس کی خرید و فروخت پر 25اکتوبر 2005 کو مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ سپریم کورٹ نے یہ کارروائی ڈور پھرنے کے باعث متعدد انسانی ہلاکتوں کے واقعات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کی اور بعض قانونی ماہرین کے خیال میں یہ پہلا بڑا کیس تھا جو حکمرانوں کے غصے کا باعث بنا۔8اکتوبر 2007ء کو معزول چیف جسٹس نے سی ڈی اے کے حکام کو اسلام آباد کے مضافات میں چک شہزادمیں ان تمام فارموں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی ہدایت کی جنہیں رہائشی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا ان فارمز کو 2003ء میں بااثرشخصیات نے معمولی قیمت پر جڑواں شہروں کی سبزیوں کی ضروریات پورا کرنے کے مقاصد سے خریدا تھا۔ ان فارم ہاو¿سوں کے الاٹیوں میں صدر پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز بھی شامل تھے اور تخمینے کے مطابق ان فارم ہاو¿سوں کی قیمت کھربوں روپے تھی جو ایک غریب قوم کے ساتھ سنگین مذاق تھا اور3 نومبر کے بعد آنیوالی عدلیہ نے جو پہلا فیصلہ کیا وہ یہ تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے سابق احکامات کالعدم قرار دیدیئے۔ جسٹس افتخار نے ملک بھر سے سینکڑوں لاپتہ افراد کی شکایات پر ازخود نوٹس لیا ان لاپتہ افراد کو خفیہ ایجنسیوں نے مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں اٹھایا تھا اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا یہ موقف تھا کہ یہ افراد جن کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت بھی نہیں ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور ان افراد کو جیل میں رکھ کر ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے عدالت عظمیٰ صرف یہ چاہتی تھی کہ ایسے افراد منظر عام پر آئیں تاکہ ان کے اہل خانہ کو ان کے متعلق علم ہو سکے۔ معزول چیف جسٹس نے مشرف حکومت کے حمایت یافتہ لینڈ مافیا کے سربراہ شاہ شربیل کی طرف سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کچی آبادی زبردستی خالی کرانے اور ایک پبلک پارک کو تجارتی منصوبے میں بدلنے کی کوششوں پر بھی ازخود نوٹس لیا اور جسٹس افتخار کے احکامات پر وہاں رہائشی غریب معزول چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کیلئے دعا گو رہے۔ 5 اپریل 2005ء کو عدالت عظمیٰ نے سٹیٹ بینک کو صارفین کے تحفظ کے حوالے سے گائیڈ لائنز دیں جس کے نتیجے میں یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیلئے ملک بھر میں بینکوں کے باہر شیڈز بھی تعمیر کئے گئے۔ 14 اپریل 2006ء کو سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو گلبرگ کے ایک پارک (ڈونگی گراو¿نڈ) کو کمرشل کرنے اور وہاں کام کرنے سے روک دیا۔ حکومت کا وہاں ایک کمپنی کو پلازہ اور سینما بنانے کی اجازت دینے کا ارادہ تھا۔ عدالت عظمیٰ نے سی ڈی اے کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف میں ایک پبلک پارک کو گالف گراو¿نڈ میں بدلنے کے کام سے روک دیا اس منصوبے کی تکمیل سے صرف چند رئیس افراد کو فائدہ ہونا تھا جبکہ علاقے کے رہائشیوں نے بچوں کیلئے موجود واحد پارک سے محروم ہو جانا تھا۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف نائن میں فاطمہ جناح پارک میں ایک عالمی ادارے کے ریسٹورنٹ کی تعمیر بھی رکوا دی جس سے لوگوں نے شہر کے واحد بڑے پارک کے بڑے حصے سے محروم ہو جانا تھا یہ کیس ابھی تک زیر سماعت ہے۔ یکم جون 2006ء کو سپریم کورٹ نے پیمرا کے سربراہ کو ایک آرکیڈ کا غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کا حکم دیا پولیس قانونی مالکوں کی طرف سے شکایات درج کروانے کے باوجود خاموش تماشائی تھی۔ جولائی 2007ء میں سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو بااثر لینڈ مافیا کی طرف سے لاہور میں تعمیر کی جانیوالی کثیرالمنزلہ عمارت گرانے کا بھی حکم دیا۔ 14ستمبر 2006ءکو سپریم کورٹ نے کراچی سٹی گورنمنٹ کی یہ اپیل مسترد کردی جس میں اس نے کراچی کی چھ اہم سڑکوں پر کمرشل پلاٹ بنانے کی پابندی معطل کرنے کی درخواست کی تھی سندھ حکومت نے عوام نے ججز کی بحالی میں تاخیر اور خصوصاً چیف جسٹس کی مدت ملازمت کم کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اگرچہ میاں نواز شریف نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام ججز کی بحالی اعلان مری کے مطابق ہو گی اور اگر ہم قوم سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کر سکے تو ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی کوئی حق نہیں ہوگا ۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی افسر شاہی 1400 صفحات پر مشتمل وہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے ہچکچا رہی ہے جس میں 60 ہزار بااثر سیاستدانوں، آرمی افسروں، غیر ملکی کمپنیوں اور کاروباری افراد کے نام شامل ہیں۔ ان افراد نے جنرل مشرف کے دور میں بینکوں سے 54 ارب روپے کے قرضے خاموشی سے معاف کرائے ہیں اور اس قومی لوٹ مار سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے افراد پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں۔ موقع بڑا دلچسپ ہوگا جب یہ رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی کیونکہ اس لوٹ مار سے فائدہ اٹھانے والے بااثر افراد اپوزیشن بنچوں پر سب سے آگے ہوں گے۔ اس نئی صورتحال کا رسوا کن پہلو یہ ہے کہ سٹیٹ بینک نے یہی رپورٹ سپریم کورٹ میں پہلے پیش کی تھی جہاں ایک ازخود نوٹس کے تحت ملک کی مقدس گائیوں کی طرف سے لوٹ مار کیخلاف سماعت جاری تھی لیکن پارلیمنٹ میں یہی رپورٹ مختلف حیلے بہانے بنا کر پیش نہیں کی جا رہی۔ اس بات نے ان لوگوں کو حیران کردیا ہے جو ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔ اس معاملے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سٹیٹ بینک اس وقت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے جب وزارت خزانہ کا قلمدان اسحاق ڈار کے پاس ہے۔ وہ پارلیمنٹ کو بتا چکے ہیں کہ مرکزی بینک کو متعلقہ معلومات اکٹھا کرنے کیلئے مزید وقت درکار ہے۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کے کسی افسر نے نئے وزیر خزانہ کو نہیں بتایا کہ گزشتہ ماہ یہی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جا چکی ہے۔ اس ہچکچاہٹ نے اور بھی بہت افسروں کو حیران کردیا ہے اور وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے سٹیٹ بینک کو وہ رپورٹ پیش کرنے سے روک دیا جو پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔




Friday, April 18, 2008

ملک عوام کا ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ۔۔۔۔۔۔ تحریر چودھری احسن پریمی



ُپاکستان کا جو سب سے بڑا المیہ ہے وہ ہر شعبہ زندگی میں ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری اور انیس کروڑ عوام کی دوری ہے جس کی وجہ نو آبادیاتی نظام کے رائج کا تسلسل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک سازش کے تحت انگریز کے ٹائوٹ جا گیرداروں ا ور نو آباد یاتی نظام کی سوچ کے حا مل برٹش ڈاگ بیورو کریٹوں نے ایک آزاد ملک کا نظام وضع کرنے کی بجائے ہر وہ کام کیا جس سے عوام محکوم سے محکوم تر ہوتے چلے گئے اور آج وطن عزیز کا ناک نقشہ یہ ہے کہ ساٹھ سال سے ایک فیصد طبقہ نناوے فیصد عوام کے مقدر سے کھیل رہا ہے۔ یہ مخصوص طبقہ ملکی خزانہ سے اربوں،کھربوں لوٹ بھی لیتا ہے تو اس کی معافی کے قانون بھی بن جاتے ہیں اور غریب آدمی دو ہزار کا بھی سرکار کا نادہندہ ہوجائے تو وہ ساری عمر لاوارث قیدی کی طرح جیل میں پڑا رہتا ہے۔ ہر دور حکومت میں باہر سے ایڈوا ئزر منگوائے جاتے رہے اور عوام کو چکر یہ دیا جاتارہا کہ یہ اپنے شعبہ میں ماہر ہیں اور حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی انکشاف ہوتا ہے کہ ماہرین نہیں تھے بلکہ ڈاکو تھے اور بریف کیس نوٹوں سے بھر کرفرار ہوگئے ہیں۔ میں آج ان تما م نام نہاد دانشوروں،اور خصو صی طور پر امریکہ اور برطانیہ سے ڈگری ہولڈرزتجزیہ نگا روں پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس ملک اور عوام کی ترقی کیلئے جو بھی تجزیے اور پالیسی کی بات کرتے ہیں وہ ایک سراب،دھوکہ اور فراڈ کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کا دارو مدار اردو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان اردو میں ہے اس کی وجہ اس ملک کی انیس کروڑ عوام میں سے تقریبا سترہ کروڑ ان پڑھ عوام ہیں انگریزی کی بات کرنے والوں نے ساٹھ سال میں عوام کو کیا دیا ہے سوائے دھوکہ کے۔ نظام کی تبدیلی کی بات کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ چین،روس،فرانس،جرمنی،جاپان کی طرح فوری طور پر تمام ذریعہ تعلیم بمعہ سائنس و ٹیکنالوجی اپنی زباںمیں کر دیں اگر حکمراں کسی بھی بحران پر قابو نہیں پا سکتے تو عوام پر یہ ایک نیکی ضرور کردیں اور انگریز کی طرز سوچ کے مطابق بنائے گئے پبلک سروس کمیشن کو توڑ دیا جائے۔ عوام کو ایسا کمیشن نہیں چاہیے جو عوام سے دوری یعنی نفرت کی علامت کی تربیت دے۔ اور فر فر انگریزی بول کر عوام کو بیوقوف بنانے والوں کو اوقات میں رکھا جائے اور انھیں حکومتی اداروں میں انٹر پریٹر سے زیادہ کا درجہ نہ دیا جائے۔ اردو ذریعہ تعلیم سے ایک تو شرح خواندگی کی رفتار میں تیزی آگئی اور سرکاری زبان اردو سے وہ آسانی سے سرکاری روزگار کے حصول تک رسائی حاصل کر سکیں گے ۔ جبکہ پاکستان کے عوام کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد پارلیمنٹ میں پرویز مشرف کے مواخذے کی قرار داد پیش کرے اسی لئے قوم نے انہیں ووٹ دئیے ہیں حکومتی جماعتیں آزادی و خود مختاری کیلئے امریکہ کے سامنے ڈٹ گئیں تو وہ ان کا ساتھ دیں گے ۔ پرویز مشرف کا کورٹ مارشل بھی ہونا چاہیے ۔ ججز بحال نہ ہوئے تو قوم کا امتحان ہو گا عدلیہ کی بحالی پر فوج کے سربراہ کا بھی امتحان ہو گا کہ بحال ججز کے ساتھ ان کا کیا رویہ ہو گا ۔ اقتدار کو طول دینے کیلئے قوم کے بیٹوں کو امریکہ کے سپرد کیاگیا لا پتہ افراد کے خاندانوں کے دکھوں کا ضرور مداوا ہو گا اور ان کے مصائب دور ہوں گے لا پتہ افراد کی بازیابی کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں ۔ وزیرستان ، سوات ، بلوچستان میں آپریشن بند کئے جائیں لا پتہ افراد کو بازیاب کیا جائے ، لال مسجد و جامعہ حفصہ آپریشن کے ذمہ داران کو انصاف کے کہٹرے میں لایا جائے ۔ ایجنسیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنایاجائے قوم کے سامنے طویل جدوجہد ہے امریکی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کیلئے کوئی خیر برآمد نہیں ہو گی امریکہ کی پالیسی ایک ہی ہوتی ہے امریکہ نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں اور مداخلت کیلئے افغانستان کی جنگ کو فاٹا میں منتقل کرنے کی پالیسی اپنا ر کھی ہے ۔ بزرگ شہری ، مائیں ، بہنیں ، بچے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے بے چین ہیں ۔ کیا کوئی ایسی ریاست ہے جو اپنے جوانوں کو بیچ کر جیتی ہے ۔ دشمن کے ہاتھوں میں جوانوں کو دے کر حکمران اپنے عیش و عشرت کیلئے امریکی امداد لے رہے ہیں پوری قوم نے مشرف کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے پرویز مشرف کا سب سے بڑا جرم ملکی آزادی و خود مختاری کو بیچنا ہے۔ قومی پالیسیاں بنانے کی خود مختاری حاصل کرنا ہے حکمران جماعتوں میں ہمت ہے تو وہ امریکہ سے آزادی حاصل کریں امریکی سفارت خانے میں جانا ، ڈپٹی سفیر کے ساتھ ملاقاتیں قومی وقار کے خلاف ہے نام نہاد قومی حکومت میں لوگ اغواء ہو رہے ہیں عدل و انصا ف نہیں ہے چیف جسسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی سب سے بڑا امتحان ہے پی پی مسلم لیگ (ن) اور پارلیمنٹ کا امتحان ہے کہ وہ عدلیہ کو بحال کرتے ہیں کہ نہیں ۔ معزول ججز کی بحالی کے بعد اپنے عہدوں پر آنے کے بعد فوج اور چیف آف آرمی سٹاف کا امتحان ہو گا ان کا رویہ کیا ہو گا امریکی مخالفت کا سامنا کیاجائے گا۔ کہ قوم کا بھی امتحان ہو گا کہ ججز بحال نہ ہوئے تو کیا رد عمل ہو گا ججز کا بھی ان کی بحالی کے بعد امتحان ہو گا کہ قوم کو عدل و انصاف فراہم کرنا ہے کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ لا پتہ افراد کا پوچھ رہے تھے یورپ مغرب میں ایک شخص لا پتہ ہو جائے پوری قوم بے قرار ہو جاتی ہے ہمارے ہزاروں لوگ غائب کر دئیے جاتے ہیں لوگ مارے جاتے ہیں ہمارے دانشور ، بڑے طبقات ٹس سے مس نہیں ہوتے قوم کا خزانہ بھی لوٹا گیا اور لوگوں کو بھی بیچا گیا ۔ چھتیس دن جنگ لڑی ہے اور فوج نے چھتیس سال حکومت کی ہے بدامنی کی بنیادی وجوہات امریکی پالیسیوں پر عملدر آمد کرنا ہے ۔ غریب طبقہ کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے تمام وسائل مراعات یافتہ طبقات کے بچوں کیلئے ہیں موجودہ حکمرانوں کے بارے میں یقین نہیں ہے کہ یہ امریکہ سے آزادی لینے کیلئے تیار ہوں گے اگر یہ اس راستے پر چلتے ہیں عوام ان کا ساتھ دیں گے عوام کو پارلیمنٹ کی رکنیت اور حکومت نہیں چاہیے وہ خزانے پر غریب کا حق مانگتے ہیں غریبوں کا علاج معالجے کی سہولتوں تک رسائی ہو ہم خود اپنی پالیسیاں بنائیں تعلیمی پالیسی بھی امریکہ بناتا ہے اپنی قومی زبان اردو سے محروم ہیں تعلیم کے حوالے سے ریسورس گیئر لگایا ہے جہاں انگریزی نہ تھی وہاں بھی اسے رائج کر دیا گیا اپنی زبان میں علم کا فروغ ہونا چاہیے جب تک اپنی زبان نہ ہو گی اپنا تشخص نہ ہو گا تہذیب کلچر پر حملہ ہوا ہے اپنا تشخص ، خود مختاری برقرار نہیں ہے جن جوانوں نے افغان جنگ میں فوج کا ساتھ دیا ان کی آج گردن زنی ہے عدل مر چکاہے کوئی عدالت نہیں ہے کوئی ایسا دروازہ نہیں ہے کہ انصاف کیلئے اس پر دستک دے سکیں۔ عوام کاعہد ہے کہ مرتے دم تک آزادی و خود مختاری کیلئے جدوجہد کریں گے عوام لا پتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہیں قومی آزادی کی جدوجہد میں قوم کے شانہ بشانہ ہیںملک میں گیارہ ستمبر کے بعد سے شرمناک حالات ہیں بڑی تعداد میں لوگوں کو غائب کیاگیا ریاست ماں کا کردار ادا کرتی ہے مگر مائیں ، بہنیں دربدر ہیں ریاست خود ظلم ڈھا رہی ہے غلط اقدامات کے خاتمے کا وقت آنے کو ہے ۔ظلم ، خونریزی ، نا انصافی ، جنگوں ، وسائل پر قبضے کی پالیسی امریکی جمہوریت ختم ہو چکی ہے جامعہ حفصہ کی طالبات توقع کر رہی تھیں کہ فوجی جوان انہیں ریلیف دینے کیلئے آئے ہیں مگر انہیں جلا دیاگیا جبکہ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے بارے میں پارلیمنٹ کورٹ مارشل کی قرار داد منظور کرے پرویز مشرف کو فوج کی وردی پہنا کر اس کا ٹرائل کیا جائے جس سپہ سالار کی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری تھی بیرونی فورسز کیلئے دروازے کھول دئیے امریکہ نے چھتیس حملے کئے کورٹ مارشل کے بعد آرٹیکل سکس کے تحت سزا دی جائے دیگر ملوث عناصر کی بھی گرفتار ی کی جائے بڑے بڑے دلخراش واقعات دیکھے اور سنے بارہ مئی کراچی ، لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن ، نو اپریل کے وقعات دیکھے سرکار جس کو بھی گرفتار کرے گی چوبیس گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی پابند ہے ہمارے تھانوں میں بے گناہ لوگوں کو پولیس اہلکار ایف آئی آر کے بغیر لاک اپ میں بندکر دیتے ہیں مگر ان تھانوں اورپولیس والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی اگر ایسا ہوتا تو یہ معاملات آگے نہ بڑھتے عدالتوں کے فرائض مناسب انداز سے ادا کئے ہوتے تو صورتحال اس طرح نہ ہوتی لاپتہ افراد کے واقعات انتہائی شرمناک ہیں شہریوں اور ملکی غیرت و حمیت کے ساتھ چاہئے کچھ بھی ہو حکمرانوں کو کرسی عزیز ہے معاشرتی برائیوں کے خاتمے کیلئے نظام جز ا و سزا قائم کرناہو گا حکمرانوں کیلئے بھی اس نظام کو متحرک کرنا ہو گا حکمران بار بار ملکی آئین پر شب خون مارتے ہیں بار بار ملک پر اس لئے قابض ہوتے ہیں کہ عوام ماضی کو فراموش کر دیتے ہیں وہ تمام لوگ جنہوں نے کسی بھی مرحلہ بھی ملک کی آئینی مشنیری کو پٹڑی سے اتارا اور جمہوریت کا گلا گھونٹا زبردستی قابض ہوئے زندگیوں کے سودے کئے اور قوم کو سستے داموں بیچا پانچ ہزار ڈالر پر تو امریکہ میں نعشیں فروخت نہیں ہوتی جو ان واقعات میں ملوث ہے حساب کا وقت آگیا ہے قوم لا پتہ افراد کے خاندان ان سے حساب سے لیں گے آئین توڑنے والے ایک ایک شخص کی نشاندہی کی جائے سزا ایسی ہو کہ آئندہ کسی کو آئین توڑنے کی ہمت نہ ہو اس کے سوچنے کی بھی جرات نہ ہو ان خاندانوں کے پیارے جلد آئیں گے اس کیلئے کام کی ضرورت ہے موجودہ حکومت کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے پرویز مشرف کے جانے کا وقت ہے امریکہ کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ پرویز مشرف ایک بوجھ اور زندہ لاش ہے امریکہ صرف نومبرکے انتخابات تک پرویز مشرف کو رکھنا چاہتاہے ۔ ایک سپر طاقت کا مستقبل پاکستانی عوام کے ہاتھوں میں ہے نومبر سے پہلے پرویز مشرف کی رخصتی سے پہلے پرویز مشرف کی رخصتی سے امریکہ میں ری پبلکن کے بجائے ڈیمو کریٹک آئیں گے صرف پرویز مشرف کے خلاف مواخذے کے ارادے کی ضرورت ہے حکمران بدل چکے ہیں لیکن ابھی عوام کا مقدر نہیں بدلہ ملک بھر میں امن و امان کا قیام مہنگائی غربت بے روزگاری کا خاتمہ عوام کو تعلیم و صحت اور انصاف کی فراہمی حکومت کی عملی طور پر ا ولین ترجیحات ہونی چاہیے میثاق جمہوریت اور اعلان مری ملک میں جمہوریت کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کیلئے نسگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ملک میں جمہوریت کی نئی تاریخ لکھی جارہی ہے ۔ آمریت کی رسوائی تو ہوئی لیکن ابھی پی ڈی اے کا ایجنڈا ادھورا ہے کیونکہ یہاں حکمران تو بدل گئے ہیں لیکن عوام کا مقدمہ بدلنا ابھی باقی ہے ۔ عوام کو مہنگائی امن و امان بے روزگاری بجلی و گیس کی عدم دستیابی اور بہت سے دوسرے مسائل دریش ہیں ۔ اس ضمن میں پورے ملک میں دیانتدار آفسران تعینات کیے جائیں جرائم بڑھنے کی وجہ کرپٹ پولیس آفیسر ہیں پاکستان انیس کروڑ عوام کاملک ہے کسی آمر کے لیے کوئی انہیں دبا نہیں سکتا جب تک اداروں خصوصا عدلیہ پارلیمنٹ اور میڈیا کو مضبوط نہیں کیا جاتا آمروں سے نجات ممکن نہیں ا جب تک عوام اور وکلاء زندہ ہیں آمروں کو برداشت نہیں کر سکتے وکلاء نے اس جدوجہد میں اپنا سب کچھ داو¿ پر لگا کر عوامی عزت حاصل کی ہے ہمیں مل کر اداروں اور ملک کی تعمیر وترقی کرنی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو قانون کی حکمرانی والا ملک دیا جاسکے اگر ہم قانون اصولوں اور ضابطوں پر چلیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں د ے سکتی ہماری قوم کو ترقی کے لیے قانو ن کی حکمرانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے میاں نواز شریف نے عدلیہ کی بحالی کا اپنے اراکین اسمبلی سے حلف لیا ہے ۔ انھوں نے معزول ججز کو رہائی دلائی ہے اور جلد ہی انہیں ان کے عہدوں پر بحال کریں گے آمریت کے سہارے چلنے والی سابق حکومت نے ملک کو آٹے ‘ بجلی پانی دہشت گردی لاقانونیت اور بدترین معاشی بحران سے دو چار کیے رکھا اب ایسے کرپٹ را شی لوٹ مار میں ملوث کام چور افسران و اہلکاروںکو کسی بھی صورت میں تعینات نہ کیا جائے گا بلکہ دیانتدار بااخلاق اچھے کردار اور عوام کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے افسران و اہلکاروں کو تعینات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ بداخلاق کرپٹ ‘ عوام کی خدمت کا جذبہ نہ رکھنے والے افسران کو برطرف کرکے گھر بھیجنے کے علاوہ لوٹ مار کرنے والوں کا بلا متیاز احتساب ہونا چاہیے کام چور کرپٹ اہلکار افسران اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ وہ سزا کے لیے تیار رہیں ۔ حکمرانوں کو عوام کی خدمت پر یقین ر کھنا ہوگا۔ ملک سے غربت ‘جہالت اور پسماندگاگی کا خاتمہ کر نا ہوگا آئندہ تمام فیصلے اتحادیوں سے باہمی مشاورت اورتقرریاں و تبادلے میرٹ کی بنیاد پر کرنا ہونگے ا ور امن وامان کی ناقص کارکردگی اور جرائم پر کنٹرول نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے نئی حکومت نے بھی جمہوریت کو انتشار کی نذر کیا تو عوام اسے بھی مسترد کر دیں گے۔ آج پورے ملک میں (ق ) لیگ اپنے کرتوتوں کی و جہ سے عوامی نفرت کی علامت کا نشان بن چکی ہے اور ان کے ظلم کے ستائے ہوئے لوگ جگہ جگہ ان کا انڈوںا ور ڈنڈوں سے استقبال کرتے ہیں یہ تو مکافات عمل ہے اب پرویز مشرف کے لیے پاکستان اوراقتدار میں کوئی جگہ نہیں(ق) لیگ کی لوٹ مار کو بے نقاب کرکے ایک ایک پائی وصول کی جائے اور اعلان مری پر ہر صورت عملدرآمد کو ممکن بنا یا جائے کیو نکہ یہ ملک عوام کا ہے یہ کسی جاگیر دار،سیاستدان یا کسی فوجی حکمران کے باپ کی جاگیر نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مدت ملازمت میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کی زبردست عوامی مزاحمت ہو سکتی ہے ۔ امریکہ اپنے صدارتی انتخابات کے حوالے سے پرویز مشرف کو نومبر تک صدر کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ ری پبلکن کو خوف ہے کہ پرویز مشرف نکال دئیے گئے تو کانگریس اور صدارتی انتخابات ہار جائے گی ۔ وکلاء تحریک کا میابی کے قریب ہے ۔ کسی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔ عدلیہ کی بحالی کے لئے شروع کی گئی تحریک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور اب وہ وقت دور نہیں جب تمام ججز بحال ہوں گے اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ملک کے عوام وکلاء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںجنہوں نے بہت سے مصائب اور مالی مشکلات کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھا اور اب ان کی جدوجہد رنگ لانے والی ہے ۔ ا دنیا میں ہمیشہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے عزم پر قائم رہتی ہیں اور اتنے مصائب و الا م کے باوجود ان کے عزم و حوصلے میں ذرا برابر لغزش نہیں آتی۔ وکلاءکی تحریک دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی مستند جدوجہد ہے ۔ یوم شہداء کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے طاہر پلازہ کراچی کا دورہ کیا جو کچھ دیکھا وکلاء نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ہم کسی صورت چیف جسٹس صاحبان کی مدت میں کمی نہیں ہونے دیں گے اور ایسی ترمیم پاکستان میں کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی ۔ اب یہ بھی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ فلک شیر کو چیف جسٹس بنا دیا جائے ۔ وجیہہ الدین نے کہا کہ یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے یہ غیر آئینی غیر قانونی ہے ہمیں یقین واثق ہے کہ خود شیر فلک بھی ایسی کسی آفر کو قبول نہیں کریں گے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ 3 نومبر کی ایمرجنسی اور پی سی او عدلیہ کا گلا گھونٹنے کیلئے لگائی گئی تھی ۔ اس غیر آئینی حکم سے انکار پر 60 سے زائد ججوں کو گھر جانا پڑا ۔ پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کے اعتراف کے بعد سپریم کورٹ کو یہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ اسے کوئی جواز فراہم کرے ۔ چیف جسٹس اور دیگر ججوںکو بغیر کسی تحریر آرڈر کے اپنے اہلخانہ سمیت گھروں میں قید کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے ۔ 9 مارچ 2007ء کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجتے ہوئے انہیں معطل کردیا گیا اور گھر میں ر بند کردیا گیا ۔ یہ عدلیہ کو رسوا کرنے کی کوشش تھی جس کے خلاف وکلاء ،عدلیہ اور پوری سوسائٹی نے مداخلت کی ، لا ہور بار کا اس حوالے سے سب سے اہم کردار رہا ہے ۔ جب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بار کے استقبالیہ میں شرکت کیلئے آئے تو چار گھنٹے کا سفر 25 گھنٹے میں طے ہو سکا ۔ جس طرح کا استقبال لاہور میں کیا گیا اس سے پورے ملک کے عوام اور وکلائکو تقویت ملی اور پھر 20جولائی کو عدلیہ کے وقار اور عزت کی بحالی کا فیصلہ ہوا لیکن پھر اڑھائی ماہ بعد ہی عدلیہ پر دوسرا وار کیا گیا جو صریحا بد نیتی پر مبنی تھا اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے پی سی او جاری کردیا گیا ۔ اس ایمرجنسی یا پی سی او سے کوئی حکومت یا پارلیمنٹ گھر نہیں گئی بلکہ اس کے ذریعے عدلیہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی اور 60 سے زائد ججوں کو گھر جانا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اپنی اس تحریک میں ثابت قدم رہیں ان کی منزل نزدیک سے نزدیک تر آتی جارہی ہے ۔ جسٹس (ر) بھگوان داس نے کہا کہ 1981ء2000ء اور 3 نومبر 2007ء کو آنے والے پی سی اوز میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ 81ء میں جنرل ضیاء الحق کے پی سی او سے بعض ججوں نے انکار کیا لیکن انہوں نے پنشن کی مراعات قبول کرلیں اسی طرح 2000ئمیں جاری ہونے والے پی سی او سے بھی چیف جسٹس سمیت 6 ججوں نے انکار کیا لیکن قبل از وقت ریٹائرمنٹ قبول کرتے ہوئے انہوں نے بھی پنشن وصول کی لیکن 3نومبر 2007ء کو جاری ہونے والے پی سی او سے جن ججوں نے انکار کیا انہوں نے آج تک اسے تسلیم نہیں کیا انہوں نے پنشن کی مراعات قبول نہیں کیں اور وہ آج بھی آئینی جج ہیں اور اس بات کو پوری قوم بھی تسلیم کرتی ہے 23 نومبر 2007ء کی سپریم کورٹ کا فیصلہ خودساختہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں جب پی سی او جاری کرنے والا شخص خود یہ اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے3 نومبر کو غیر آئینی اقدام کیا ہے ۔ تو پھر خودساختہ عدالت کے پاس اس اقدام کو جائز قرار دینے کا کیا جواز تھا ۔ چیف جسٹس کو خاندان سمیت بغیر تحریری آرڈر کے گھر میں قید رکھا گیا کسی کو ملنے کی اجازت نہ دی گئی اس اقدام کی نہ تو قانون اجازت دیتا ہے نہ ہی یہ اخلاقی ہے بلکہ اس سے ہمارے ملک کا عالمی سطح پر وقار مجروح ہوا ہے ۔ پوری دنیا کے سامنے ہم شرمسار ہیں ۔ سب کو چاہیے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور غیر احکامات کو مسترد کردیں




Thursday, April 17, 2008

آٹا،بجلی، مہنگائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریرچودھری احسن پریمی




ججوں کی بحالی کیلئے حکومت کی اتحادی جماعتوں نے جو دو ٹوک اعلان اور کمٹمنٹ دی ہے اس پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور انہیں ضروریات زندگی کی فراہمی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ غیر آئینی صدر کے جلد مواخذہ کا طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہیے جبکہ یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن نے پاکستان میں 18 فروری2008 کے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں اپنی حتمی رپورٹ میں ان انتخابات کو مسابقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے تمام امیدواروں کیلئے یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے، سرکاری میڈیاجانبدار رہااور سابق حکمران جماعت اور نگران انتظامیہ کو کوریج دی گئی، سابق حکمران جماعت ق لیگ نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا تاہم انتخابی نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی قبولیت حاصل رہی۔ یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور چیف انتخابی مبصر مائیکل گیلر نے بدھ کو یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کی حتمی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فروری 2008ء کے انتخابات مسابقتی تھے اور عوام و سیاسی جماعتوں نے نتائج کو قبول کیاتاہم پاکستان میں انتخابات کے ڈھانچے اور صورتحال میں مستقل مسائل موجود ہیں، اگر انہیں حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں انتخابی مسائل پیدا ہونے کا سنگین خدشہ ہے۔ پاکستانی حکام، سیاسی جماعتوں اور شہری معاشرے پر زور دیا کہ وہ سرعت سے انتخابی اصلاحات سرانجام دیں اور وہ ایک سال بعد دوبارہ پاکستان آکر حالات میں پیش رفت کا مشاہدہ اور اپنی رپورٹ یورپی پارلیمنٹ کو پیش کرینگے۔ مائیکل گیلر نے مزید کہاکہ انتخابات میں زیادہ اہم کردار ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے ادا کیا اور اس عمل کی گہری جانچ پڑتال کی تاہم مجموعی ڈھانچے اور حالات کے تحت منعقدہ انتخابات میں سنگین مسائل درپیش رہے اور انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں سابق حکمران جماعتوں کے حق میں تعصب کے باعث یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کی جانب سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور کارکردگی پر اعتماد میں کمی نظر آئی، انتخابی مہم مدھم اور سست روی کا شکار رہی اور انتخابات سلامتی کے مخدوش حالات میں ہوئے جبکہ انتخابی اجتماعات پر حملوں کے دوران 100 سے زائد سیاسی کارکنان ہلاک ہوئے، جن میں ایسے ہی ایک المناک واقعہ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق شکایات اور اپیلوں کے طریقہ کار پر اعتماد کی کمی ہے ۔مائیکل گیلر نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان میں انتخابی عمل میں اصلاحات کیلئے ہرممکن مدد دینے کو تیارہے کیونکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے۔ رپورٹ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق انتخابات کے ڈھانچے اور حالات میں اصلاح کیلئے 82 سفارشات دی گئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار عدلیہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں جس پر متعلقہ افراد کو اعتماد ہو تاکہ انتخابی عمل کی موثر نگرانی کی جا سکے،انتخابی قانون سازی کا مشاورتی اندازسے جائزہ لیاجائے، مخصوص حل طلب معاملات میں انتخابی انتظامیہ کی خود مختاری اور شفافیت، شکایات اور اپیلوں کے ضوابط اور امیدوار کی شرائط پر حد سے زیادہ پابندیاں شامل ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین کا تقرر متعلقہ افراد کی مشاورت سے مشروط ہو اور اس میں ان کی خودمختاری کا خیال رکھا جائے جبکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہئے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ خودمختار تقرری کے حامل ججوں کو عدالتوں اور ٹربیونلز کے پاس آنیوالی انتخابی اپیلوں کو بروقت نمٹانا چاہئے، تمام پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حلقے اور انٹرنیٹ پر فوری آویزاں کئے جائیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک درست اور مکمل انتخابی فہرست تیار کرنی چاہئے۔ یورپی یونین انتخابی مبصر مشن نے انتخابی مشاہدہ کاری کے عرصے کے دوران پاکستانی عوام کے تعاون، اعانت اور پذیرائی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے۔ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اعلان مری پر اسکی روح کے مطابق عمل کیاجائے گا۔ صدر کے مواخذے کی بات ہو یا ججز کے رہنے یا نہ رہنے کا مسئلہ ،پاکستان میں اب جو کچھ ہو گا آئین اور قانون کے مطابق ہو گا ۔ وزیر اعظم نے ججز کی رہائی کا حکم کھڑے کھڑے نہیں کیا بلکہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق کیاہے ۔ ججز کی بحالی کے حوالے سے جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے ۔ ماضی میں فرد واحد جو کہتا تھا ، وہ آئین اور قانون بن جاتا تھا اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو جاتا تھا لیکن اب پاکستان ایک جمہوری ملک بن چکا ہے اور جس کے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے ۔ پاکستان مشکل حالات سے گزر رہاہے ۔گندم کا بحران ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی نئی حکومت کو ورثے میں ملی ہے جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر ) حمید گل نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے انہیں اب اقتدار چھوڑنا ہو گا ۔ پرویز مشرف کی غلط پالیسیوں سے ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں رہنے کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اب 58 ٹو بی کا استعمال ممکن نہیں رہا ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج صاحبان بحال ہوں گے ۔ ججوں کی بحالی میں اب کوئی ابہام نہیں رہ گیا اب افتخار چوہدری کو بحال اور پرویز مشرف کو جانا ہو گا ۔بے نظیر بھٹو کے قتل میں انہی بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے لیاقت علی خان ‘ ضیائ الحق کو قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھا نسی پر چڑھایا تھا اس بات کا اغلب امکان ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کی بحالی سے بھی قبل صدر کو مواخذے کے ذریعے ہٹا دے ۔ پارلیمنٹ حالات کو اس طرف لے جا رہی ہے جس کا تقاضا عوام کر رہے ہیں ۔ صدر مشرف کے جانے کا اب وقت آ گیا ہے انہیں اب بہرحال جانا ہو گا ۔ اگر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جاتا ہے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر پاکستان اور عوام کی خواہش کو بحال ہونا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہی رہ گیا ہے کہ افتخار محمد چوہدری بحال اور صدر مشرف مستعفی ہوں ۔ سیاست کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس وقت عوام کی مجموعی سوچ یہی ہے کہ صدر مشرف اب جائیں اب مشرف کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ امریکہ کا کہنا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ جائیں گے ۔ یہ غلط ہے ہمارا کنٹرول کا نظام بڑا موثر ہے ۔ تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ صدر مشرف کو اب جانا پڑے گا صدر کی رخصتی اب حتمی ہو گئی ہے ۔ خواہ یہ خونریزی کے ذریعے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ہو بہرحال اب ان کے لئے جانا ضروری ٹھہر گیا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی صدر مشرف کے لئے اب کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔ کیونکہ صدر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انتظامیہ ذلیل ہوئی ہے اور اتنے لوگ مارے گئے ہیں اس لئے اب صدر کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔ نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کوئی خودکش حملہ نہیں ہوا جس سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ صدر مشرف کی وجہ سے ہو رہا تھا اب لوگوں کو یقین ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اب نہیں رہیں گے ۔ قوم امن پسند ہے ایف بی آئی کو کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔ سی آئی اے وغیرہ سب دندناتے پھر رہے ہیں ان کو کھلی چھٹی پرویز مشرف نے دے رکھی ہے دشمن ہمارے اندر گھس آئے ہیں وہ ہمارے اداروں کے اندر موجود ہیں اور پاکستان میں تشدد آمیز جو واقعات ہو رہے ہیں ان کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے انہی کی سوچ استعمال ہو رہی ہے ۔ حمید گل نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے لیاقت علی خان قتل کیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ۔ ضیاء الحق کو قتل کیا یہ عالمی استعمار ہیں جن کے سربراہ امریکہ ہیں یہ پاکستان کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بے نظیر بھٹو ان سے باغی ہو گئیں تھیں نیگرو پانٹے جب بے نظیر سے ملنے پاکستان آئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اسی وقت فیصلہ ہو گیا تھا ۔ انہوں نے یہاں بے تحاشا وسائل جمع کر رکھے ہیں ان سب باتوں کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ بے نظیر کی ٹارگٹ کلنگ تھی ۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا ایک نہیں بلکہ کئی مہرے موجود ہیں ۔ امریکہ کو امت مسلمہ کے خلاف ہر سازش میں ناکامی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا ۔ لیکن اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی تو اسے سورج کے نیچے کہیں بھی سر چھپانے کو جگہ نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایک کے بعد دوسری حماقت کی ہے اسے مشرق وسطی ، افغانستان ، لبنان ، فلسطین ہر جگہ پر ناکامی کا سامنا ہے جبکہ وہ عراق میں بھی اذیت ناک شکست سے دوچار ہے اور مزید دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیل کی مدد سے حملہ کیا، اسلحہ فراہم کیا، روپیہ پیسہ بھی دیا لیکن لبنان کے عوام نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعے اس کی جارحیت کو ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ایران جو ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے کوشاں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اس میں بھی کامیاب ہو گا ۔ اب امریکہ کو عقل کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور ان سازشوں سے باز آجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو ہر صورت ختم ہونا ہے ۔ ہم امریکی عوام کے خلاف نہیں ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابی چاہتے ہیں ۔ لیکن امریکہ کو مسلم دشمن پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ماضی میں وہ اپنی ہر اس سازش میں ناکام رہا اس نے شاہ ایران کو تحفظ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی شناخت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی حیثیت سے ہمیں دنیا بھر میں متحد ہونا ہو گا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے مذاہب کے خلاف ہیں لیکن ان تمام مذاہب کو جو ان میں 90 فیصد مشرکات موجود ہیںاس پر عمل پیرا ضررو ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی امت مسلمہ کے اتحاد اور اسے قرآن کے پیغام کے تحت متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ،ایران کے نوجوانوں نے ان کی کتب سے دین اسلام کے حوالے سے بہت رہنمائی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی وجہ ہے کہ آج دنیا اسلام ممالک میں 207 بینک بغیر سودی بینکاری کر رہے ہیں جن میں 400 ارب ڈالر گردش میں ہیں ۔ ہمارا اصل ہدف اللہ کے پیغام کی سربلندی ہے ۔


Wednesday, March 26, 2008

جینا مر نا اے وطن تیرے لئے نئے وزیر اعظم کا عزم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر چودھری ا حسن پریمی




صدر پرویز مشرف اور نئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے مل جل کر ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ جبکہ صدر نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے ۔ تین سٹیج ٹرانزیشن آخری مرحلے میں ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہو چکے ہیں اور یہ انتخابات آزادانہ منصفانہ اور شفاف انداز میں پر امن طریقے سے ہوئے جو ایک قابل فخر امر ہے ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے انتخاب کے بعد اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے ۔ جبکہ یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اور نگراں حکومت ختم ہو گئی ہے اب جینا مرنا پاکستان کیلئے ہی ہوگا،آئین کے مطابق چلیں گے تو کوئی تصادم نہیں ہو گا یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قو م کے مشکور ہیں جس نے خوش اسلوبی کے ساتھ انتخابات میں اپنا مینڈیٹ دیا، اس سے ان کی امنگوں کا عکس نظر آتا ہے کہ کس طرح کے لوگوں کو یا کس قسم کے منشور کو وہ آگے لانا چاہتے تھےعوام نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ وہ ملک و قوم کے لیے بہترین کام کریں گے آئندہ دور بہت مشکل ہو گا کیونکہ دہشت گردی انتہا پسندی اور معاشی مسائل درپیش ہیں انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اپنے ملک اور اپنی قوم پر فخر ہے اور ہم پاکستان کے لیے ہی جئیں اور مریں گے۔ یوسف رضا گیلانی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پہلے100 دن کی گنتی شروع ہو جائے گی اور ہاو¿س کے فلور پر وہ آئندہ سو دن کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ جس میں معیشت اور بحرانوں کے حوالے سے معاملات شامل ہوں گے ۔ موجودہ صورتحال میں چیلنجز سے نمٹنا ایک پارٹی کا کام نہیں ہے اس لیے تمام فورسز کو یکجا ہو کر ملک کو ان بحرانوں سے نکالنا ہو گا ۔ پارلیمنٹ کو با اختیار اور سپریم بنانا ہے اور اداروں کو مضبوط بنانا ہے سید یوسف رضا گیلانی کے اعتما د کے ووٹ کے بعد ان کے سو دن کی حکمت عملی شروع ہو جائے گی لہکن اس سے پہلے وکلاءکے تیس دن پورے ہو جائیں گے کیا اگر نئی حکومت ججز محال کرانے میں ناکا م ہو جا تی ہے تو کیا وہ ان بحرانوں پر قا بو پا لے گی جس کا اس نے عزم کیا ہے ؟ 100 دن کی سوچ بچار سے بہتر ہے ایک ہفتے میں ایسے فیصلے کئے جا ئیں اور ان فیصلوں کی مدد سے ان وجوہات کا سرے سے ہی خاتمہ کر دیا جا ئے جو بحران پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ فوری طور پر ججز کو بحال کیا جائے نیز 1973ءکے آئین کو اپنی اصل حالت میں لا یا جائے اور ایسے تمام آرڈیننس اور قوانین کو ایک قرار داد کے ذریعے ختم کیا جا ئے جو فو جی آمروں نے ا پنے اقتدار کو طول اور تحفظ دینے کے لئے جعلی مجلس شوری اور اور جعلی ووٹوں سے معرض وجود میں آنے والی پالیمنٹ سے حما یت لے کر بنائے۔ از سر نو قانون سازی کی جا ئے ۔ اور 58/2B کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا ئے اور ایسے تما م راستے بند کئے جا ئیں جو آمریت کی طرف جاتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ قیام پاکستان سے قبل گورنمنٹ آف انڈیا کے ایکٹ کا حصہ جو بر طانوی حکومت نے بنا یا تھا کہ اگر غلام ملک ہندوستان کے لوگ بغاوت کریں تو بغاوت کی صورت میں متعلقہ صوبے یا علاقے پر برٹش آرمی Take Over کرسکتی ہے اور اس ایکٹ کو بد قسمتی سے آ زادی کے بعد بھی لاگو کر دیا گیا اور فوجی گروپوں کو اقتدار چھیننے کا مو قع ملتا رہا ۔ اور اس ایکٹ کو بھی ایک سازش کے تحت شامل کیا گیا تا کہ بر طانیہ اور امریکہ اپنے نا پاک عزائم کو پو را کرنے کہلئے اس ملک اور عوام کو کنٹرول کر سکیں اور اس طرح کی ملتی جلتی کئی اور بھی بیماریاں ہیں جن پر نظرثانی بہت ضروری ہے۔ 1973ء کے آئین سے آمریت کی تمام نشانیاں ختم کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ دہشت گردی کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے قومی امنگوں کے مطابق پالیسیاں وضح کی جائیں عدلیہ کی بحالی کے لئے پارلیمنٹ سے قرارداد کی منظوری فوری طور پر کی جائے سید یوسف رضا گیلانی سے توقع ہے کہ وہ پاکستان اور اس کی عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور وزیر اعظم کے منصب کا مورال بحال کرنے میں کامیاب ہو نگے ۔ پانچ سالوں میں اس منصب کی توقیر کو خاک میں ملا دیا گیا ہے ۔ اصل مبارکباد کی مستحق سولہ کروڑ عوام ہے ۔ 18فروری کو عوام نے واضح اور دو ٹوک مینڈیٹ دے کر آمریت پر کالی ضرب لگائی ہے ۔عوام کی جدوجہد کا مرحلہ مکمل ہوا ہے تاہم کئی مراحل ابھی باقی ہیں ۔ پہاڑ کی طرح نئی حکومت کے سامنے کئی مسائل ہیں ۔ پورے ملک کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے ۔ وہ پاکستان جو 12 اکتوبر 1999ء کے وقت موجود تھا اب نہیں ہے ا ملک کی آزاد ی اور خود مختاری کو خاک میں ملا دیا گیاہے ۔ ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں کہا جارہا ہے کہ جمہوریت بحال کی گئی ہے نئی حکومت کو اقتدار نہیں مسائل منتقل ہوئے ہیں ۔ملک میں بد امنی ، لاقانونیت ، قتل وغارت گری ،بم دھماکے ، خود کش حملے ، بے روز گاری ،مہنگائی سمیت بجلی ،آٹے ،گیس کا بحران ہے ۔قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے ۔ 42ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ،28 کھرب روپے کے اندرونی قرضے ہیں ۔ اقتصادی بد حالی ہے ۔بگڑا ہوا آئین ،ٹوٹی ہوئی عدلیہ تباہ حال ادارے نئی حکومت کو منتقل کیے گئے ہیں ۔ عوام کی مدد اور تعاون سے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا نا گزیر ہے ۔ ججز کی رہائی پر پوری قوم نے جشن منایا عوام کو خوشی ہوئی مگر ساتھ ندامت بھی کیونکہ ایک آمر نے ملک کو اس مقام پر پہنچایا ہے دنیا کیا سوچے گی ۔ ججز کو زیر حراست رکھنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے ۔ انصاف فراہم کرنے والے قید کر دیے گئے ۔ شرمناک ڈرامہ کھیلا گیا ۔ اس ڈرامہ میں ملوث تمام کرداروں کا محاسبہ ناگزیر ہے ۔ اب عوم اس انتظار میں ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب اعلان مری کے مطابق تمام ججز اپنے عہدوں پر کام شروع کردیں گے ۔ آزاد عدلیہ ہی کے نتیجے میں ملک جمہوریت کا قلعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ مثیاق جمہوریت کی ایک ایک شق پر عمل ضروری ہے ۔ 1973ء کے آئین سے آمریت کے تمام نشانیاں ختم کر دی جائیں ۔اصوبائی اسمبلیوں کے اجلاس بلانے میں تاخیر نہ کی جائے ۔ عوامی مینڈیٹ میں روڑھے نہ اٹکائے جائیں امریکی اعہدیداروں کا بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد ہونے والے تمام فیصلے فرد واحد کی جانب سے کیے گئے ۔تمام پالیسیاں عوامی امنگوں اور جذبات کے مطابق بنائی جائیں گی اور عوام کے تعاون سے ان پر عملدر آمد کیا جائے گا ۔ نئی پارلیمنٹ وجود میں آچکی ہے ۔ سارے معاملات اور پالیسیاں پارلیمنٹ میں زیر بحث لائی جائیں ۔ عوام کے نمائندے دہشت گردی کے حوالے سے پالیسیوں کا ہر پہلو سے جائزے لیں ۔ ور اس مقصد کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جا ئے جس میں تمام کی نمائندگی ہو۔ عالمی نقطہ نظر کو بھی سامنے رکھ کر دہشت گردی کے خلاف قومی اور ملکی مفادات کے تحت سفارشات مرتب کی جائیں اور پارلیمنٹ میں لائیں ۔ اور امریکہ پر زور دیا جائے کہ جس طرح امریکہ اپنے ملک کو دہشت گردی سے صاف اور پاک کرنا چاہتا ہے ۔ نئی حکومت کی خواہش بھی ہو کہ ہماری بستیوں پر میزائل اور بم نہ برسائے جائیں ۔معصوم لوگوں سے ان کی زندگیاں نہ چھینی جائیں ہماری گلیو ں اور سڑکوں پر خون کی ندیاں نہ بہائیں جائیں ۔ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں ۔ ملک کا کوئی حصہ دفتر سڑکیں پولیس کوئی بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں ۔سیاست دان ،بے نظیر بھٹو ، سرکاری اہلکار ، عام لوگ قتل ہو رہے ہیں یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔ پا کستان امریکہ یورپ بلکہ دنیا کے ہر حصے میں امن چا ہتا ہے۔18فروری 2008ءکو عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ کس ہاتھوں میں ملک کی بھاگ دوڑ دینا چاہتے ہیں ۔ عوامی امنگوں کے مطابق حکومت سازی ہونی چاہیے اور قومی پالیسیاں بنائیں جائیں ۔ پرویز مشرف کو عوام مزید برداشت نہیں کر سکتی پارلیمنٹ ،انتظامیہ پولیس 16کروڑ عوام ایوان صدر کے ساتھ نہیں ہیں امریکہ بھی حالات کو سمجھے ۔ پاکستان میں اب مزید ون مین شو نہیں چلنا چاہیئے۔ عوام کے موڈ کو سمجھ لیا جائے ۔پارلیمنٹ آزاد اور خو د مختار ادارہ ہے ۔ فرد واحد کی جانب سے ججز کی بحالی کے لئے دو تہائی اکثریت کی بات کرنا فراڈ ہے ۔